حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 334 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 334

حقائق الفرقان ۳۳۴ سُورَة النَّحل کیونکہ اس کے لئے ایک شخص نے میرے سامنے امرتسر کے سٹیشن سے خریدا تھا۔ میں نے کہا۔ سچ کہتے ہو۔ اُس نے کہا مجھے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے۔ تب میں نے گیند دوسرے لڑکے کو دلایا۔ تھوڑے دن گزرے تو گواہی دینے والا اس لڑکے کے ساتھ غالبا لڑ پڑا تو یہ راز ظاہر ہوا کہ اس نے جھوٹی گواہی دی تھی ۔ دیکھو اس نے عدل نہ کیا اور ظاہر داری کے لئے خدا کو ناراض کر دیا۔ میں نے اس لڑکے کو دیکھا ہے۔ بڑا خوبصورت تھا۔ جان نکل گئی۔ بس یہ انجام ہوتا ہے۔ یا د رکھو ہر بدی کا انجام برا ہوتا ہے۔ جناب النبی کا حکم مان لو۔ فرماتے عدل کرو۔ ہم تمہارے خالق، ہم تمہارے مالک، رحمن، رحیم ، تمہارے ستار، تمہارے غفار، ہماری بات ماننے میں مضائقہ ! اور اپنے کسی پیارے کی بات ہو تو جان تک حاضر ۔ یہ عدل نہیں ۔ اسی طرح میں دیکھتا ہوں کہ ہر افسر اپنے ماتحت سے چاہتا ہے کہ جان توڑ کر خدمت کرے۔ میں جو تنخواہ دیتا ہوں تو یہ روپیہ ضائع نہ کرے۔ لیکن آپ جس کا نوکر ہے اس کی نوکری میں اگر جان توڑ کر محنت نہیں کرتا تو یہ عدل نہیں ۔ اس وقت ایک بات یاد آ گئی ۔ کسی امیر کی چوری ہو گئی ۔ اور اس چوری کے برآمد کرانے والے کے لئے بڑا انعام مشتہر ہوا۔ افسر پولیس نے اپنے ماتحتوں کو بلایا اور کہا۔ لو بھئی اب تو عزت کا معاملہ ہے۔ ایک میرا رشتہ دار بھی اس کے ماتحت تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ میں نے ایسی شدید محنت کی کہ مال برآمد کرالیا۔ مجرموں سے اقرار بھی کروالیا۔ اس آفیسر نے سولہ روپے جیب سے نکال کر دیئے کہ لے بیٹا تم یہ لو۔ وہ انعام تو خدا جانے کب ملے گا۔ پھر ایک مفصل رپورٹ لکھی۔ جس میں دکھایا کہ کس طرح اس مقدمہ کی تفتیش میں میں نے محنت کی اور بعض اوقات اپنی جان کو خطرے میں ڈالا۔ غرض وہ ساری کارگزاری اس غریب کی اپنی کر کے دکھائی اور انعام خود ہضم کر لیا۔ بلکہ ترقی کی درخواست دی۔ دیکھو ادھر عدل کے لئے کتنا زور دیا کہ میں نے ایسی محنت کی۔ مجھے ترقی ملے۔ وہ انعام ملے اور دوسری طرف کیسی بے انصافی کی کہ اپنے ماتحت کا حق خود ضبط کر لیا۔ رات دن میں یہ حال دیکھتا ہوں ایک شخص کے گھر میں بہو آتی ہے۔ وہ اسے نہایت حقیر سمجھتا