حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 335 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 335

حقائق الفرقان ۳۳۵ سُورَة النَّحل ہے مگر اپنی لڑکی کے لئے ہرگز گوارا نہیں کرتا کہ کوئی اسے میلی آنکھ سے بھی دیکھے ۔ پہرہ داروں کو دیکھا ۔ گرم بستر گھر میں موجود ۔ سردی کے موسم میں سرد ہوا کی پرواہ نہ کر کے وہ آدھی رات کو چند ٹکوں کی خاطر خبر دار خبر دار پکارتا پھرتا ہے ۔ مگر جن کو خدا نے ہزاروں روپے دیئے اور عیش و عشرت کے سامان ۔ وہ اتنا نہیں کر کر سکتے کہ پچھلی رات اٹھ کر تہجد تو در کنار استغفار ہی کریں ۔ یہ عدل نہیں ۔ پس میرے عزیز و ا تم خدا کے معاملہ میں ، مخلوق کے معاملہ میں عدل سے کام لو۔ ایک طرف جناب البہی ہیں۔ ایک طرف محمد رسول اللہ ہیں۔ محمد رسول اللہ کی دعا ئیں اپنے حق میں سنو۔ آپؐ کا چال و چلن سنو۔ پھر یہ کہ آپ نے ہمارے لئے کیا کیا۔ اپنے تئیں جان جوکھوں میں ڈالا ۔ ایسے مخلص مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری اپنے دوست کی فرماں برداری کے برابر بھی نہ کرو تو کس قدر افسوس کی بات ہے۔ بعض تاجروں کو میں نے دیکھا ہے۔ وہ رستے میں چلتے ہیں اور حساب کرتے جاتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے اپنے فکر میں مست ہیں اور یہ خیال نہیں کہ جس نے یہ تمام نعمتیں دیں اس کا شکر بھی واجب ہے۔ دیکھو اس وقت میں کھڑا ہوں ۔ اور محض خدا کے فضل سے کھڑا ہوں۔ پرسوں میری ایسی حالت تھی کہ میں سمجھا کہ میرا آخری دم ہے اسی کا فضل ہوا کہ مجھے صحت ہوئی ۔ اسی نے مجھے عقل و فراست دی۔ اپنی کتاب کا علم دیا۔ رسولوں کی کتابوں کا فہم دیا۔ اگر یہ انعام نہ ہوتے تو جیسے اور بھنگی ہمارے شہر کے ہیں۔ میں بھی ہو سکتا تھا۔ میں تمہیں کھول کر سناتا ہوں کہ عدل کرو۔ روپیہ جس آنکھ سے لائے ہو۔ اسی سے ادا کرو۔ مزدور کو مزدوری پسینہ سوکھنے سے پہلے دو۔ خدا کے ساتھ معاملہ صاف رکھو۔ پھر اس سے بڑھ کر حکم دیتا ہے کہ عدل سے بڑھ کر احسان کرو پھر فرماتا ہے احسان میں تو پھر احسان کا خیال آجاتا ہے۔ تم دوسروں سے ایسا سلوک کرو جیسے اپنے بچوں کے ساتھ بدوں خیال کسی بدلے کے کرتے ہیں ۔۔۔۔ دعا کے سوا مجھے کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی۔ جو بدیوں سے بچائے۔ سوا کامیابی دکھائے ۔ ابھی ایک لڑکا تھا۔ اس کو ابھی ہوش بھی نہ تھا کہ میرے پاس لایا گیا۔ بڑے بڑے