حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 333 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 333

حقائق الفرقان ۳۳۳ سُورَة النَّحل اللہ تعالیٰ عدل کا حکم دیتا ہے۔ جو بات تم اپنے لئے پسند نہیں کرتے دوسروں کے لئے کیوں پسند کرتے وہ تم کو برائیوں سے روکتا ہے اور ہر قسم کی بغاوت سے روکتا ہے۔ تم کو وعظ کرتا ہے تا کہ تم نصیحت پکڑو۔ البدر جلد ۱۳ نمبر ۱ مورخه ۶ / مارچ ۱۹۱۳ ء صفحه (۸) عدل ایک صفت ہے اور بہت بڑی عجیب صفت ہے۔ عدل ہر شخص کو پیارا لگتا ہے اور بہت پیارا لگتا ہے۔ عادل ہر ایک شخص کو پسند ہے اور بہت پسند ہے۔ کانشنس کے طور پر بھی جب آدمی کی ضرورت پڑے ، اسے عدل بہت پیارا لگتا ہے۔ مگر نہایت تعجب ہے باوجود اس کے عدل نہایت پسندیدہ چیز ہے۔ جب دوسرے کیساتھ معاملہ پڑے تو انسان عدل بھول جاتا ہے۔ عجائبات جو میں نے دنیا میں دیکھے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بعض لوگ اللہ کو بھی مانتے ہیں اور پھر پتھر کے بت ، پانی کے دریا ، پیپل اور بڑ کے درخت، جانوروں میں سانپ اور گائے کی پرستش کرتے ہیں مجھے بڑا تعجب آتا ہے کہ اتنی بڑی عظیم الشان ذات کو چھوڑ کر ادنی چیز کو کیوں اختیار کرتے ہیں؟ اسی طرح عدل کے معاملہ میں بھی ( کئی سو تعجب دنیا میں مجھے ہوا ہے ) ایک تعجب ہے کہ انسان عدل کو اپنے لئے اپنے دوستوں کے لئے، اپنے خویش واقارب کے لئے بہت پسند کرتا ہے۔ مگر جب دوسرے کے ساتھ معاملہ پیش آئے ۔ پھر عدل کوئی نہیں ۔ کسی کا بھائی باوا یا بہن یا ماں یا بیٹی مقدمے میں گرفتار ہو جائے تو وہ کہتا ہے اس سے بڑھ کر میرا کون ہے ان کے چھڑانے کی کوشش میں اگر میری جان بھی جائے تو کوئی بڑی بات نہیں اس وقت بعض لوگ جھوٹی گواہی ، جعلسازی ، رشوت دینے تک تیار ہو جاتے ہیں۔ گویا خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں کھڑا ہو کر یہ کام کرتے ہیں۔ مگر سو چو جس نے ایسا کیا اس نے عدل نہیں کیا۔ کیونکہ وہ ہمارا رحمان ، ہمارا رحیم، ہمارا مالک ہمارا رازق، ہمار استارالعیوب ہے۔ اس کی صفات کو چھوڑ کر کہتا ہے۔ کہ بس جو کچھ ہے، میرا یہی بیٹا ہے۔ یا یہ بیوی ہے یا ماں ہے۔ دیکھو وہی عدل جو بڑا پسند تھا۔ اس وقت بھلا دیا۔ یہاں دولڑکوں میں ایک گیند پر جھگڑا ہو گیا دونوں مجھے عزیز تھے۔ اب میں حیران ہوا کہ کس کو دلاؤں ۔ میرے پاس پیسے ہوتے تو میں مدعی کو گیند لے دیتا۔ مگر قدرت کے عجائبات ہیں کہ بعض اوقات نہیں ہوتے۔ ایک نے گواہی دی کہ یہ گیند اس لڑکے کا ہے