حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 327
حقائق الفرقان ۳۲۷ سُورَة النَّحل ساتھ حسن سیرت بھی ہو۔ میں نے تو پہرہ داروں کے ذریعے بار ہا تہجد کی توفیق پائی ہے۔ وہ بارش اور سردی کے موسم میں چار پانچ روپے کی خاطر خبر دار ، ہوشیار، جاگتے رہو کہتے پھرتے ہیں۔ اس وقت مجھے اللہ کے احسان یاد آئے ہیں کہ وہ کس قدر لا تعدد، لا حطی ہیں۔ کیا ہم اس کے لئے اس کے حضور کمر بستہ نہ ہوں؟ الإحسان۔ یہ مرتبہ عدل سے آگے کا ہے ۔ کسی نے السلام علیکم کہا۔ ہم نے یہی کہہ دیا تو کون سی بری بات ہو گئی ۔ احسان یہ ہے کہ پیش دستی کریں اور بڑھ بڑھ کر سلوک کریں۔ - وَ ابْتَائِي ذِي الْقُرْبی ۔ کے عام معنے یہ کئے گئے ہیں کہ رشتہ داروں کو کچھ دو۔ صوفیاء نے اس کے یہ معنے کئے ہیں کہ غیروں کے ساتھ ایسا سلوک کر جیسے ذوی القربیٰ کے ساتھ طبعاً کرنا پڑتا ہے۔ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ - انسان کے ایک ذاتی معاملات ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن کا اثر دوسرے پر پڑتا ہے۔ ایک جن کا اثر سلطنت پر پڑے۔ پس فرماتا ہے کہ نہ ایسا کام کر جن کا بداثر تجھ پر پڑے۔ نہ ایسا جس کا بداثر دوسرے پر پڑے اور نہ ایسا جس کا بداثر حکومت پر پڑے۔ يَعِظُكُم - فرماتا ہے کہ ایسی اعلیٰ تعلیم کوئی تم میں سے اور بھی دیتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ پس یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبی ہیں۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۷ مورخه ۱۰ فروری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۴۶) اللہ امر کرتا ہے عدل و احسان کا اور قریبیوں کو دینے کا اور روکتا ہے بے حیائی اور منکر اور بدکاری سے تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ دھیان کرو۔ ( تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائزڈ ڈایڈیشن صفحہ ۳۹) إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ ۔۔۔ الآیہ۔ اس آیت میں بڑے حکم ہیں۔ پہلا حکم عدل کا ہے۔ ایک عدل و انصاف بندوں کے ساتھ ہے۔ دیکھو ہم نہیں چاہتے کہ کوئی ہم سے دغا فریب کرے یا ہمارا نو کر ہو۔ تو وہ ہماری خلاف ورزی کرے۔ پس ہم کو بھی لازم ہے کہ اگر ہم کسی کے ساتھ خادم نہ تعلق رکھتے ہیں تو اپنے مخدوم ومحسن کی خلاف ورزی نہ کریں۔ اپنے فرائض منصبی کو ادا لے پوری آیت۔ مرتب