حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 328
حقائق الفرقان ۳۲۸ سُورَة النَّحل کریں اور کسی سے کسی قسم کا مکر و فریب اور دغا نہ کریں۔ یہی عدل ہے۔ ع هر چه بر خود نه پسندی بر دیگران مپسند کے یہ عدل با ہم مخلوق کے ساتھ ہے اور پھر جیسے ہم اپنے محسنوں کے ساتھ تعلقات رکھتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے ساتھ جو محسنوں کا محسن اور مربیوں کا مربی اور رب العالمین ہے۔ اس کے ساتھ معاملہ کرنے میں عدل کو ملحوظ رکھیں ۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور اس کا نڈ اور مقابل تجویز نہ کریں۔ اس کے بعد دوسرا حکم احسان کا ہے۔ مخلوق کے ساتھ یہ کہ نیکی کے بدلہ نیکی کرتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر سلوک کریں۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ احسان یہ ہے کہ عبادت کے وقت ہماری یہ حالت ہو کہ ہم گویا یہ اللہ تعالیٰ کو دیکھتے ہیں اور اگر اس مقام تک نہ پہنچے تو یقین ہو کہ وہ ہم کو دیکھتا ہے۔ ہیں اوراگر پھر تیسرا حکم ایتائِی ذِي الْقُرْبی کا ہے۔ ذی القربی کے ساتھ تعلق اور سلوک انسان کا فطری کام ہے۔ جیسے ماں باپ بھائی بہن کے لئے اپنے دل میں جوش پاتا ہے۔ اسی طرح اللہ کی فرماں برداری میں متوالا ہو۔ کوئی غرض مد نظر نہ ہو۔ گویا محبت ذاتی کے طور پر اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری ہو۔ پھر چوتھا حکم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ منع کرتا ہے ہر قسم کی بے حیائیوں، نافرمانیوں اور دوسرے کو دکھ دینے والی باتوں سے اور ان بغاوتوں سے جو اللہ جل شانہ یا حکام یا بزرگوں سے ہوں۔ اور آخر میں یہ ہے يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ۔ اللہ تعالیٰ تمہیں وعظ کرتا ہے۔ غرض اور منشاء النبی یہ ہے کہ تم اس کو یا درکھو۔ دو قسم کے واعظ ہوتے ہیں اور دو ہی قسم کے سننے والے۔ واعظ کی دو قسمیں تو یہ ہیں کہ کچھ پیسے مل جاویں اور یا مدح سرائی ہو کہ عمدہ بولنے والا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ تمہارے واعظ میں یہ دونوں باتیں نہیں بلکہ وہ محض نصح کے لئے کہتا ہے۔ جو کہتا ہے اور سننے والوں میں سے ایک قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جن کو اس وقت کچھ مزہ آتا ہے اور پھر یاد کچھ نہیں رہتا۔ دوسرے بالکل کورے کا رے ا جو اپنے لئے پسند نہیں کرتے وہ دوسروں کے لئے بھی پسند نا کرو۔ (ناشر)