حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 326
حقائق الفرقان ۳۲۶ سُورَة النَّحل باتوں اور برے کاموں اور بغاوت سے تمہیں وعظ کرتا ہے۔ تو کہ دھیان کرو۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۴) اس رکوع میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کو تین طور پر ثابت کیا گیا۔ یہ سورۃ تمام ہی ثبوت نبوت میں ہے۔ مگر اس رکوع میں خصوصیت سے یہ ثبوت دیا ہے۔ پہلا ثبوت تو وہ ہے جہاں گزشتہ سے پیوستہ رکوع میں آقا کے دو غلاموں کی مثال دی ہے ایک وہ غلام جو آقا کے حضور دو بھر ہے۔ کوئی کام نہیں کرتا ۔ جہاں بھیجئے وہاں سے کوئی بھلی بات کر کے واپس نہیں آتا۔ دوسرا غلام علی صراط مستقیم ہے ۔ جو خود عملِ صالح کرنے والا ہے ۔ پھر دوسرے کے لئے امر بالمعروف و نہی عن المنکر بھی ہے۔ کیا یہ دونوں مساوی ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں ۔ اسی طرح مکہ میں دو فریق تھے۔ ایک فریق کی کارگزاری اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی خدمت اسلام کے رنگ میں اب تک ظاہر ہے۔ دوسرے فریق نے خدا کی کوئی بھی خدمت نہ کی بلکہ راست باز کے مقابلہ میں نعمت الہیہ کا کفر کر کے ہلاک ہوئے۔ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ ۔ اس آیت پر لوگوں نے بڑی بڑی کتابیں لکھی ہیں۔ ہمارے امام نے بھی لمبا مضمون لکھا ہے۔ رض الْعَدْلِ ۔ صحابہ کے نزدیک عدل کے معنے انصاف ہیں ۔ اوّل ا۔ اوّل ہم انصاف کر کے دیکھیں کہ بتوں نے ہماے ساتھ کیا سلوک کیا اور خدا نے کیا کیا۔ خدا کے احسانوں کا کچھ ذکر اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ (البقرہ: ۱۶۵) کے رکوع میں پڑھو۔ کس کس احسان کا ذکر کیا جاوے۔ ارضی کارخانہ نہ ہوتا تو ہم اور تم ہی کہاں ہوتے ۔ پھر ہم کو زندگی دی۔ مسلمان بنایا۔ آنکھیں دیں اور کان دیئے ۔ قرآن مجید کا وعظ نصیب کیا۔ اب اس کے مقابل ہم دیکھیں کہ جو ہمارے مولیٰ نے احسان کئے کسی اور نے بھی کیے؟ ہر گز نہیں۔ اس وقت بے اختیار منہ سے نکلتا ہے۔ فَالْحَمْدُ لله رَبِّ الْعَلَمِينَ ۔۔۔۔۔ قرآن نے عدل کے معنے کئے ہیں کہ انسان کا ظاہر و باطن ایک ہو جائے ۔ حسن صورت کے اے بے شک آسمان اور زمین کے پیدا کرنے میں ۔