حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 322 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 322

حقائق الفرقان ۳۲۲ سُورَة النَّحل ٨٠ - أَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرَتٍ فِي جَوَ السَّمَاءِ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا اللهُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَا يَتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ۔ ترجمہ ۔ کیا انہوں نے نہیں دیکھا پرندوں کی طرف جو آسمان کی ہوا میں مسخر ہیں ان کو اللہ کے سوا کون تھام رہا ہے۔ بے شک اس میں نشانیاں ہیں ایماندار قوم کے لئے۔ تفسیر - أَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ - یہ کی آیات ہیں ۔ ان میں ایک پیشگوئی ہے کہ عنقریب یہ پرندے ان منکرین ، مشرکین ، مکذبین کا گوشت نوچ نوچ کر کھائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کو رو کے ہوئے ہے۔ سورۃ الملک میں بھی اسی کا اشارہ فرمایا ہے۔ بلکہ کھول کر سنایا ہے۔ او لَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ ضَفْتٍ وَ يَقْبِضْنَ الملک : ۲۰ ۲۰)۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۷٬۱۶ مورخه ۱۰ رفروری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۴۵، ۱۴۶) الَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ ۔ یہ پرندے تمہاری لاشوں کے کھانے کیلئے اللہ نے رکھے ہیں۔ ( تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحہ ۴۶۲-۴۶۳) کیا وہ ان پرندوں کے حالات پر غور نہیں کرتے جنہیں ہم نے آسمان کی جو میں قابو کر رکھا ہے۔ ہم ہی نے تو انہیں تھام رکھا ہے ( اور ایک وقت آنے والا ہے کہ انہیں نبی کریم کے دشمنوں کی لاشوں پر چھوڑ دیں گے ) مومنوں کے لئے ان باتوں میں نشان ہیں۔ یہاں بھی پہلے ایک شریر قوم کا بیان کیا ہے۔ جو بڑی نکتہ چینی کی عادی اور موذی تھی اور اسلام کو عیب لگاتی تھی۔ اور بہت سے اموال جمع کر کے فتح کے گھمنڈ میں مکہ پر انہوں نے چڑھائی کی۔ یہ ایک حبشیوں کا بادشاہ تھا۔ جس نے اسی سال مکہ معظمہ پر چڑھائی کی جبکہ حضرت رحمۃ للعالمین نبی کریم پیدا ہوئے ۔ جب یہ شخص وادی محصر میں پہنچا۔ اس نے عمائد مکہ کو کہلا بھیجا کہ کسی معزز آدمی کو بھیجو۔ تب اہلِ مکہ نے عبد المطلب نامی ایک شخص کو بھیجا جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا تھے۔ جب عبدالمطلب اس ابره نام بادشاہ کے پاس پہنچے۔ وہ مدارات سے پیش آیا۔ جب لے کیا انہوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا جو ان کے اوپر پر کھولے اور موچے اڑا کرتے ہیں۔