حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 303
حقائق الفرقان ۳۰۳ سُورَة النَّحل وَ إِنْ أَبَيْتُمْ فَإِنَّا مَعْشَرَ انْفُ لَا نَطْعَمُ الْخَسْفَ إِنَّ السَّمَّ مَشْرُوبِ لَ على تخوف : تخوف کے معنے عربی زبان میں گھٹنے کے ہیں۔ یعنی ہم تمہیں ایسے گرفتار کریں کہ تم گھٹتے جاؤ۔ (ضمیمه اخبار بد ر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۵ مورخه ۳ فروری ۱۹۱۰ء صفحه ۱۴۴) يَخْسِفَ اللهُ بِهِمُ ۔ ذلیل کر دے ۔ ( تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ۔ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحہ ۴۶۲) ۵۰ - وَ لِلَّهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مِنْ دَابَّةٍ وَالْمَلائِكَةُ وَ هُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ - ترجمہ ۔ اور اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں حرکت کرنے والے اور فرشتے اور وہ تکبر نہیں کرتے ہیں۔ تفسیر سجدہ کا لفظ عرب کی لغت میں انقیاد اور فرماں برداری کے معنے دیتا ہے۔ زید الخیل عرب کا ایک مشہور شاعر ایک قوم کی بہادری کا تذکرہ کرتا ہے اور کہتا ہے اس بہادر قوم کے سامنے ٹیلے اور پہاڑ سب سجدہ کرتے ہیں یعنی فرماں بردار ہیں۔ ان میں سے کوئی چیز بھی اس قوم کو روک نہیں سکتی ۔ بِجَمْعِ تَضِلُّ الْبُلْقُ فِي حُجْرَتِهِ تَرَى الْأَكْمَ فِيهَا سُجَّدًا لِلْحَوَافِرِ وَالسُّجُودُ التَّذَلُّلُ وَالْإِنْقِيَادُ بِالسَّعِى فِي تَحْصِيلِ مَا يَنُوطُ بِهِ مَعَاشَهُمْ ۔ فتح تفسیر مدارک میں ہے۔ ۲ وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلِئِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا - أَتَى اخْضَعُوا لَهُ وَأَقَرُّوا بِالْفَضْلِ لَهُ " ( تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹر ائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۱۲ - ۱۱۳) سجدہ کے معنی تو فرماں برداری کے ہیں۔ خود قرآن میں ہے۔ ے اگر تم صلح سے انکار کرتے ہو اور جنگ پر بضد ہو تو ہم بھی خود دار اور غیور جماعت میں ذلت نہیں چکھیں گے۔ ذلت قبول نہیں کریں گے ( زہر پی لیں گے ) زہر بھی تو مشروب ہی ہے ۔ ( ناشر ) ۲۔ وہ اتنے بڑے لشکر کے ساتھ جس کے اندر ابلق گھوڑے ( باوجود نمایاں ہونے کے ) گم ہیں یعنی دکھائی نہیں دیتے ( کیونکہ لشکر بہت زیادہ گھوڑوں پر مشتمل ہے ) اور تو ٹیلوں کو گھوڑوں کے قدموں سے ( پامال ہو کر ہموار ہو جانے سے گویا ) حالت سجدہ میں دیکھتا ہے۔ سے اس چیز کے حاصل کرنے کے لئے جس سے ان (لوگوں) کی معاش وابستہ ہے۔ کوشش کر کے فرمانبرداری اور تذلل اختیار کرنا سجود ہے۔ (ناشر) ہے اس کی فرمانبرداری کرو اور اسی کے لئے ہر فضیلت کا اقرار کرو۔ (ناشر)