حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 302
حقائق الفرقان ۳۰۲ سُورَة النَّحل تفسیر الَّذِينَ صَبَرُوا نیکیوں پر قائم رہنا اور بدیوں سے رکنا صبر ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۵ مورخه ۳ فروری ۱۹۱۰ صفحه (۱۴۴) ۴۴- وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُوحِي إِلَيْهِمْ فَسُأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ - ترجمہ۔ اور تجھ سے پہلے بھی ہم نے مرد ہی رسول بنا کر بھیجے تھے ان کی طرف ہم نے وحی کی تو تم پوچھ لو اہل کتاب سے اگر تم کو معلوم نہ ہو۔ تفسیر الا رجالا - الا بمعنے غیر ہے۔ أَهْلَ الذِّكْر - قرآن شریف میں دوسرے مقام پر ہے۔ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ (الحجر: ١٠) اور فرمایا إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِالذِكْرِ لَمَّا جَاءَهُمْ (خم سجده : ۴۲) جس سے معلوم ہوا کہ ذکر سے مراد قرآن مجید ہے۔ انزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ (النحل: ۴۵) میں بھی اس کی تشریح فرمائی ۔ اہل الذکر سے اہلِ اسلام مراد ہیں ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۵ مورخه ۳ فروری ۱۹۱۰ صفحه ۱۴۴) ۴۶- أَفَا مِنَ الَّذِينَ مَكَرُوا السَّيَّاتِ أَنْ يَخْسِفَ اللَّهُ بِهِمُ الْأَرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ - ترجمہ۔ تو کیا وہ بے خوف ہو گئے ہیں جو بری تدبیریں کیا کرتے ہیں کہ اللہ ان کو ذلیل کر دے گا مٹی میں ملا دے گا یا ان پر عذاب آ پڑے گا وہاں سے جہاں سے ان کو کچھ شعور نہ ہو۔ تفسير الَّذِينَ مَكَرُوا - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قید کر دیں قتل کر دیں یا جلا وطن کر دیں کفار مشرکین یہ تدبیریں کر رہے تھے۔ أَنْ يَخْسِفَ اللهُ بِهِمُ الْأَرْضَ ۔ اس ملک میں ہم تمہیں ذلیل کر دیں۔ ایک شعر یاد آ گیا حماسہ میں ابو ثمامہ کا شعر ہے ا بے شک ہمیں نے اتارا ہے قرآن اور ہمیں اس کے حافظ ہیں۔ ۲ جن لوگوں نے حق چھپایا اور انکار کیا قرآن کا جب وہ ان کے پاس آیا۔ ۳ اور ہم نے اتارا تیری طرف قرآن یادگار۔