حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 301
حقائق الفرقان ۳۰۱ سُورَة النَّحل ۴۱ - إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَيْءٍ إِذَا أَرَدْنَهُ أَنْ تَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ - ترجمہ۔ اس کے سوائے نہیں کہ ہمارا کہنا کسی چیز کے لئے جب ہم اس کام کو کرنا چاہیں اتنا ہی ہے کہ ہم اس کو کہہ دیتے ہیں کہ ہو تو وہ ہو جاتی ہے۔ تفسیر کن کے معنے ہو جا۔ فیکون کے معنے ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کسی چیز کے وجود کو چاہتا ہے اسی طرح وہ چیز ظہور میں آجاتی ہے ۔۔۔ کن کا تعلق بعد الموت ہوا کرتا ہے۔ تمام قرآن کریم میں مرنے کے بعد پھر جی اٹھنے پر کُن فرمایا ہے۔ ( نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۱۸ ، ۱۱۹) ۴۲۔ وَ الَّذِينَ هَاجَرُوا فِي اللهِ مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا لَنُبَوِّثَنَّهُمْ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ لَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ - ترجمہ ۔ اور وہ لوگ جنہوں نے گھر چھوڑے اور گناہ چھوڑے اللہ اللہ تعالیٰ میں ہو ہوکر کر (یعنی ( یعنی عاشق الہی بن کر اس کے بعد کہ ان پر ظلم کئے گئے تو ہم ان کو ضرور جگہ دیں گے دنیا میں عزت کی جگہ اور آخرت کا ثواب تو بہت بڑا ہو گا انہیں معلوم ہوتا تو اچھا ہوتا۔ تفسیر ۔ مکہ میں مسلمانوں کی حالت نا گفتہ بہ تھی ۔ صرف مالوں کا ہی فکر نہ تھا بلکہ جانوں کا بھی ۔ ایسے وقت میں حضرت حق سبحانہ ، وحی فرماتے ہیں کہ لوگ مہاجر ہوں گے ۔ اور پھر مظفر و منصور ہوں گے۔ شیعہ قوم بھی غور کرے جو مہاجرین کی معائب شماری اپنا فرض سمجھتی ہے۔ یا د رکھو کہ جو شخص کچھ اللہ کے لئے چھوڑتا ہے وہ دنیا میں بھی اس کا بدلہ پاتا ہے۔ وَ لَأَجْرُ الْآخِرَةِ - دنیا کے سکھ سے اجر آخرت پر دلیل قائم کی۔ جب ایک بات حاصل ہو گئی تو بدلیل اربعہ متناسبہ دوسری ضرور حاصل ہوگی۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۵ مورخه ۳ رفروری ۱۹۱۰ صفحه ۱۴۳، ۱۴۴) ۴۳- الَّذِينَ صَبَرُوا وَ عَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ - ترجمہ وہ مہاجرین جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے رہے۔