حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 276
حقائق الفرقان ۲۷۶ سُورَة الْحِجْر تجربہ صحیحہ اور بدی کی خطرناک سزائیں موجود ہیں ۔ مگر شریر کا شرارت سے باز آنا کوسوں بلکہ بمراحل دور ہے۔ اس جنگ کو ستیارتھ میں دیانند نے بھی مانا ہے اور اس کا دیوا ئر سنگرام نام رکھا ہے یعنی (اچھوں اور بروں کی جنگ ) غرض نور و ظلمت ، نورانی و ظلمانی ، صدق و کذب کا یدھ ہے ۔ ابلیس و شیطان وہی ظلمت اور شرارت ہے یا یوں سمجھو کہ ظالم و شریر، کاذب ، جاہل اور تاریکی کے فرزند کے القاب ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے علم کامل ، رحمت ، قدرت اور تصرف سے ہر جگہ موجود ہے اور شریر جس قدر بکواس کرتا ہے وہ سب خدا کے سامنے کرتا ہے۔ اور رو در رو کرتا ہے کہ گویا اس سے بالمشافہ جنگ کرتا ہے۔ ۔۔۔۔۔ قال کے لفظ سے یہ سمجھنا کہ شیطان نے خدا سے بالمشافہ مکالمہ کیا۔ سخت غلط بات ہے قرآن کریم میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ خدا کے مکالمہ سے وہی لوگ شرف اندوز ہوتے ہیں جو خدا کی نگاہ میں پاک وصاف ہوتے ہیں۔ پھر شیطان جیسی نجس ذات کا یہ رتبہ کہاں کہ اسے خدا کی ہمکلامی کی عزت ملے؟ سارے قرآن میں كَلَّمَ تَكْلِیما کا کوئی صیغہ شیطان کے کلام کے بارہ میں مذکور نہیں ہوا۔ اصل بات یہ ہے کہ لفظ قال عربی کی زبان میں ہر ایک بات اور کام اور اشارہ اور زبانِ حال پر بولا جاتا ہے۔ چنانچہ عربی کی لغت میں لکھا ہے۔ الْعَرَبُ تَجْعَلُ الْقَوْلَ عِبَارَةً عَنْ جَمِيعِ الْأَفْعَالِ - یعنی قول تمام افعال پر بولا جاتا ہے۔ کہی۔ قَالَتْ لَهُ الْعَيْنَانِ سَمْعًا وَ طَاعَةً ۔ اس کی آنکھوں نے کہا کہ ہم سنتے اور مانتے ہیں ۔ قَالُوا صَدَقَ وَ أَوْ مَؤُوا بِرُؤُوسِهِمْ - صحابہ نے کہا سچ کہتا ہے اور یہ بات سر کے اشارہ سے - قَالَتِ السَّمَاءُ جَادَتْ وَانْسَكَبَتُ ۔ بادل نے کہا۔ کیا معنی؟ برسا وَيُقَالُ لِلْمُتَصَوَّرِ فِي النَّفْسِ قَبْلَ التَّلَفُظِ فَيُقَالُ فِي نَفْسِي قَوْلُ لَمْ أَظْهَرُهُ قال اس خیال پر بھی بولا جاتا ہے جو ابھی تلفظ میں نہیں آیا ۔ کہا جاتا ہے میرے دل میں بات ہے