حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 275
حقائق الفرقان ۲۷۵ سُورَة الْحِجْر عالم اس کے مقابلہ کے لئے بھی اُٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ تم اپنی جگہ دیکھ لو۔ وید جسے تم کلام الہی مانتے اور قدامت کو اس کی سچائی کی بڑی دلیل بتاتے ہو۔ ہندوستان کے فرزندوں نے اس کے مقابلہ کے لئے ہتھیار نکالے اور اسے رد کیا۔ اور اس کی قدامت اور صداقت کے ابطال کی غرض سے تمہارے بھائی جینی اپنے نوشتوں اور ہادیوں کی اتنی لمبی مدت بیان کرتے ہیں کہ اس کے مقابل ریاضی دان بھی حیران ہو جاتے ہیں اور مجوس اپنی کتابوں کی مدت قدامت کے بیان کرنے میں مہاں سنکھ کے آگے اور سترہ صفر بڑھاتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ جنگ اور مقابلہ اس عالم میں طبعی امر کی طرح ہمیشہ سے قائم چلا آتا ہے۔ اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ آپس میں جنگ تو ایک طرف رہی ۔ اشرار ہمیشہ خدا سے مقابلہ کرتے چلے آئے ہیں۔ ایک عظیم الشان ناصح خود انسان کے اندر موجود ہے۔ مگر اس کے ساتھ بھی وہ مقابلہ ہے کہ الامان الامان تھوڑی دیر کے لئے کچہریوں میں عبرتا دیکھیں بازار کے لین دین کو دیدہ بصیرت سے مطالعہ کریں لیکچراروں کی لفاظیاں اور اس کے ساتھ ان کا عملدرآمد غور سے ملاحظہ کریں ۔ محکمہ جات میں کم سے کم ان لوگوں کی عملی کارروائیوں کو دیکھیں کہ جن کی تمام تعلیم اہنسا پرموں دھرما ( رحم ہی اعلیٰ مذہب ہے ) اور بائیں ہمہ ایک جانور (گائے ) کی لفظی حفاظت کی ٹھیکیداری کے بھیس میں اپنے خیال کے مخالفوں غریبوں بے کسوں کے ساتھ کیا کیا سلوک کرتے ہیں۔ میں نے ایک ہندوریاست کے ایک بڑے با اختیار پنڈت سے سوال کیا کہ مساوی الاستعداد مگر مدت کے امیدوار فتح محمد اور نئے امیدوار فتح چند کے لئے آپ کے محکمہ میں اگر موقع پرورش ہو تو آپ کسی کو مقرر کریں گے۔ کہا فتح چند کو۔ میں نے کہا آپ تو بدھ مذہب کے آدمی ہیں اور آپ نے ہنوز دریافت بھی نہیں کیا کہ فتح چند بدھ مذہب کا آدمی بھی ہے یا نہیں ۔ کہا۔ مولوی صاحب ! ہماری بچپن کی تعلیم ہمیں ایسے سبق سکھا چکی ہے کہ بہتر ہے کہ آپ اس بحث کو ختم کر دیں۔ اس قسم کی صدہا نظیریں اور واقعات ہیں جو دانشمند کو کافی سبق سکھاتے ہیں۔ جو کو کافی غرض یہ مسلم امر ہے کہ البہی فرمان پاک لوگوں کے مفید کلمات ، نور قلب، عقل، نظارۂ قدرت،