حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 277 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 277

حقائق الفرقان ۲۷۷ سُورَة الْحِجْر جس کو میں نے ظاہر نہیں کیا۔ وَ الْإِعْتِقَادُ يُقَالُ فُلَانٌ يَقُولُ بِقَوْلِ الشَّافِعِی ۔ فلانا اعتقاد کرتا ہے شافعی کا اعتقاد قول کے معنے اعتقاد کے ہوئے ۔ وَيُقَالُ لِلدَّلَالَةِ عَلَى الشَّي علی العموم دلالت کو بھی قول کہتے ہیں ۔ امْتَلَاءَ الْحَوْضُ فَقَالَ قطنی ۔ کہا جاتا ہے حوض جب پانی سے بھر گیا تو اس نے کہا اب بس کرو۔ قَالَتْ لَهُ الطَّيْرُ تَقَدَّمُ رَاشِدًا - پرندوں نے اسے کہا۔ اقبال مندی سے آگے بڑھو۔ غرض جب لفظ قال اتنے بڑے وسیع معنوں پر بولا جاتا ہے۔ تو کس قدر ضروی امر ہے کہ ہر موقع ومحل کے مناسب اس کے معنے کئے جائیں ۔ شیطان ایک کافر ، متکبر ، احکام الہی سے منکر خبیث روح ہے۔ حسد و بغض سے اس نے آدم جیسے راست باز کا مقابلہ کیا اور اس مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف بھی بدی کو منسوب کر دیا اور بے باکی سے بد کلامی کی ۔۔۔۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہم مسلمان نیکی کے محرک کو ( تم کچھ نام رکھو ) ملک یا فرشتہ کہتے ہیں۔ اور بدی کے محرک کو شیطان و ابلیس ۔ ان معنوں کے لحاظ سے ملک وابلیس کا کون منکر ہوسکتا ہے۔ یہ پختہ اور یقینی بات ہے کہ جہاں قرآن کریم نے شیطان و ابلیس کا ذکر کیا ہے۔ وہاں انہی اُسروں اور بدی کے محرکوں سے مراد ہے۔ ان واقعات پر اعتراض کرنا خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت اور اس کے نظام کی نکتہ چینی کرنا ہے۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۰۶ تا صفحہ ۱۱۰) - إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَنُ إِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغُوِينَ - ترجمہ ۔ جو میرے بندے ہیں تیرا تو ان پر کچھ زور نہیں چل سکتا ہاں خود جو تیری گری ہوئی خواہشوں کی پیروی کرے گا گمراہوں میں سے (ان پر تیرا زور چلے گا )۔ تفسیر۔ جو میرے بندے ہیں تجھ کوان پر کچھ زور نہیں ۔ ( فصل الخطاب لمقد مہ اہل الکتاب حصہ دوم صفحہ ۳۱۷) عِبَادِی ۔ کچھ ضرورت نہیں کہ عِبَادِی سے خاص بندے مراد لئے جاویں۔ کسی آدمی پر شیطان کا غالب نہیں ۔ ہاں جب انسان خود اس کا کہا ما - کا کہا ماننے لگ جاتا ہے۔ جیسا کہ میں نے کئی