حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 269 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 269

حقائق الفرقان ۲۶۹ سُورَة الْحِجْر تفسیر - موزون ۔ دو معنے ہیں ۔ ایک معلوم ۔ دوسرے مقدار کے ساتھ ہر چیز بنی ہوئی ہے۔ ضمیمه اخبار بد ر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۲ مورخه ۱۳ جنوری ۱۹۱۰ صفحه ۱۴۰) ۲۲- وَإِنْ مِّنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ - ترجمہ ۔ اور سب چیزوں کے ہمارے ہی پاس خزانے ہیں اور ہم ان کو اتارتے رہتے ہیں مقرر اندازے کے موافق ۔ تفسیر - وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَذَ ابنه جتنی ایجادیں ہیں ان کی تحقیقات کرو تو یہی معلوم ہو گا کہ اس کا اصول اتفاقیہ معلوم ہوا اور اول اول کسی بالا رادہ کوشش کا نتیجہ نہیں ہوتے ۔ مثلاً چھاپنے کے پتھر کی دریافت ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۲ مورخه ۱۳ جنوری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۴۰) جس طرح بچہ سکھایا اور تربیت دیا جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے خلقت کو سکھایا ہے اسی طرح خدا کی وحی بدوں محرک کے نہیں ہوئی۔ میں نے خود تجربہ کیا ہے کہ جب تک قلق اضطراب اور گھبراہٹ طلب کی نہ ہو۔ اس وقت تک خدا تعالیٰ کے نکات معرفت حاصل نہیں ہوتے ۔ پس یہ نکتہ معرفت کا ہے۔ خدا کے حضور میں تو سب کچھ موجود ہوتا ہے۔ پر خدا کے نزدیک وان من شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ کا اندازہ ہوتا ہے۔ اسی لئے میرا خیال ہے کہ لکچروں اور وعظوں کے واسطے بھی قبل از وقت تیاری نہیں کرنی چاہیے یا ایک کتاب کا مسودہ تحریر کر کے بہت مدت رکھ رکھنا اور بہت دیر کے بعد اس کو چھا پنا غلطی ہے۔ کیونکہ اگر وقت پر خدا کی توجہ ہو تو وہ خود حسب ضرورت مضامین سمجھا دیتا ہے۔ پس اس زمانہ میں مخلوقات انسانی دنیا میں تھوڑی تھی ۔ دوسرے بلاد میں ان کا کوئی تعلق نہ تھا۔ نہ بیماریاں اس کثرت سے تھیں اور نہ ایسی تحریکیں تھیں تو پھر اللہ تعالیٰ کیوں کسی چیز کو بلا ضرورت اور بدونِ طلب نازل کر دیتا۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۵ مورخه ۱۰ رفروری ۱۹۰۵ ء صفحه ۳)