حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 268
حقائق الفرقان ۲۶۸ سُورَة الْحِجْر ہیں ۔ اور ان کے اعمال سے واقفیت حاصل کی ہے۔ کا ہن لوگوں کو جو غیب سے آوازیں آتی ہیں۔ ان میں بعض باتیں سچی بھی ہوتی ہیں ۔ مگر کثرت کے ساتھ جھوٹ ہوتا ہے۔ یہ جو غیب بینی کی کوشش کرتے ہیں۔ ان میں غور کر کے دیکھا جاوے تو تعجب آتا ہے۔ اور اصل بات تو یہ ہے۔ تمام جہان پیش گوئی ہی کرتا ہے۔ مثلاً دوست کو لکھ دینا کہ (1) ہم فلاں بجے تمہارے پاس گاڑی پر پہنچیں گے۔ باوجود اندیشہ لیٹ وکولیرون کے۔ (۲) کاشت کار کا آئندہ اناج کی اُمید پر بیج بونا با وجود اندیشہ ارضی و سماوی کے۔ (۳) ملازم کا کام ۔ (۴) تاجر کا مال منگوانا با امید نفع - (۵) اشتہار دینا پہلے گھر سے خرچ کر کے۔ غرض پیشگوئیوں پر دنیا کا سارا مدار ہے۔ ان سب کا معیار صداقت کثرت وقلت پر ہے۔ کا ہن اسی لئے جھوٹے ہیں کہ ان کی اکثر باتیں صحیح نہیں نکلتیں۔ نبیوں میں بھی کثرت کا اعتبار ہے۔ جب خدا کے فعل میں یہ بات پائی جاتی ہے۔ قول میں کیوں نہ ہو۔ بروج برج کہتے ہیں گول چیز کو۔ روشن ستارے جو آسمان میں ہیں ان سے مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ منازل شمس و قمر مقصود ہیں ۔ مگر عرب لوگ تو ان باتوں کو نہیں جانتے تھے۔ بہر حال ستارے بہت مفید ہیں ارض کے لئے۔ مگر خبیث لوگ ان سے عجیب عجیب جزوی اور شخصی احکام نکالتے ہیں۔ الا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ - کوئی ایک آدھ بات صحیح بھی مستنبط کر لیتے ہیں۔ شِهَابٌ مُّبِين - بات پوری نہیں ہوتی تو آگ سی لگ جاتی ہے جو ان کے تمام جھوٹ کے تو دہ کو جلا دیتی ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۲ مورخه ۱۳ جنوری ۱۹۱۰ صفحه ۱۳۹ ، ۱۴۰) ۲۰ - وَالْأَرْضَ مَدَدْنَهَا وَ الْقَيْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ وَ أَنْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ موزون - ترجمہ ۔ اور زمین کو ہم نے پھیلایا ہے اور اس میں ڈال دئے ہیں پہاڑ اور اس میں ہر ایک نئے موزوں اور مناسب اگائی ہے۔