حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 254 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 254

حقائق الفرقان ۲۵۴ سُورَةِ إِبْرَاهِيم نمک کھائیں اور حکم نہ مانیں تو یہ نمک حرامی ہوئی یا کچھ اور؟ کوئی کسی کا نوکر ہو۔ اگر وہ آقا کی فرماں برداری نہیں کرتا تو وہ نمک حرام کہلاتا ہے۔ پھر کس قدر افسوس ہے انسان پر کہ اللہ تعالیٰ کے لا انتہا انعام واکرام اس پر ہوں اور وہ غفلت کی زندگی بسر کرے۔ الحکم جلد ۱۵ نمبر ۲۱، ۲۲ مورخہ ۷ / ۱۴ جون ۱۹۱۱ ء صفحہ ۶ ) ٣٦ وَإِذْ قَالَ اِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلُ هُذَا الْبَلَدَ آمِنَّا وَاجْنُبْنِي وَ بَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنَامَ - ترجمہ۔ اور جب ابراہیم نے کہا اے میرے رب اس ملکہ کے شہر کو ( دجال کے فتنہ سے ) امن کی جگہ بنادے اور مجھے اور میری اولاد کو بچالے بت پرستی سے۔ تفسیر۔ حضرت نبی کریم سے پہلے جو لوگ دنیا میں سب سے بڑے آدمی گزرے ہیں۔ ان سب کے سرتاج ابراہیم تھے۔ یاد رکھو دنیا میں دو خلیل گزرے ہیں۔ ایک خلیل الرحمن ابراہیم ہیں ۔ دوسرے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ مجھے کسی تیسرے کا نام معلوم نہیں ۔ تم نے سنا ہو گا کہ ساری یوروپ ، ساری امریکہ اور پھر سب مسلمان ابراہیم گور است باز اور عظیم الشان مانتے ہیں۔ اتنے بڑے عظیم الشان انسان کی بات خاص توجہ کے قائم ات خاص توجہ کے قابل ہے۔ سنو کہ وہ اپنے لئے اور اپنی اولاد کے لئے کیا چاہتا ہے۔ رَبِّ اجْعَلُ هُذَا الْبَلَدَ آمِنًا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بیوی سے معاہدہ کیا تھا کہ ہم تیری ایک بات مانیں گے۔ چنانچہ جب ہاجرہ بی بی کے لڑکا پیدا ہوا۔ تو جناب سارہ کو کسی سبب سے دکھ ہوا۔ جس پر انہوں نے کہا کہ اے ابراہیم ! بموجب اپنے وعدے کے اس لڑکے اور اس کی ماں کو ایسے جنگل میں چھوڑ آ جہاں سے ہمیں ان کی کوئی خبر نہ آئے ۔ انبیاء ایسے معاہدے خدا کے حکم سے کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنے بچے اور بیوی کو الہی کے حکم سے جنگل میں چھوڑ آئے ۔ مگر خدا پر ایمان کی یہ کیفیت ہے کہ اس بیابان کو البلد فرماتے ہیں ۔ آپ کو یقین تھا کہ یہ شہر ہو جائے گا۔