حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 253 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 253

حقائق الفرقان ۲۵۳ سُورَةِ إِبْرَاهِيم حضرت صاحب یعنی ہمارے مرزا صاحب فرمانے لگے کہ ایک دفعہ میں نے چاہا جیسے اور صوفیوں نے کتابیں لکھی ہیں۔ میں بھی لکھوں (ان میں سے بہت بڑی کتاب امام شعرانی کی ہے۔ بڑی دلچسپ کتاب ہے۔ اس کا ترجمہ اختصاری رنگ میں اپنے مذاق کے لحاظ سے نواب صدیق حسن خان صاحب نے بھی کیا ہے ) چنانچہ میں نے ایک کتاب لکھنے کا ارادہ کیا۔ مگر خدا کے انعامات کی اتنی برسات میں نے دیکھی کہ شرم سے میرا اقلم رک گیا۔ فرمایا کہ اگر برسات کے قطروں کو گن سکتا ہے تو خدا کے احسانات کو بھی گن سکے گا۔ چنانچہ خدا نے فرمایا وَ إِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللهِ لَا تُحْصُوهَا ۔ ان احسانات میں سے ایک وحدت بھی ہے۔ جس کی نسبت فرماتا ہے کہ اگر ساری زمین سونے چاندی کی بھر کر دے دو۔ تو بھی یہ وحدت پیدا نہیں ہو سکتی ۔ اس کا میں نے بھی تجربہ کیا ہے۔ ایک زمانہ میں میرے پاس بڑا روپیہ آتا تھا اور مجھے روپے کی محبت ہر گز نہیں۔ میں اپنی تعریف نہیں کرتا بلکہ اس کے فضل کا اظہار ۔ البدر جلد ۹ نمبر ۱۰ مورخه ۳۰ دسمبر ۱۹۰۹ ء صفحه (۳) انسان پر جناب الہی نے بڑے بڑے کرم ، غریب نوازیاں اور رحم کئے ہیں ۔ اس کے سر سے لیکر پاؤں تک اس قدر ضرورتیں ہیں کہ یہ شمار نہیں کر سکتا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ إِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللهِ لَا تُحْصُوهَا اگر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور غریب نوازیوں کا مطالعہ کرو تو کیا گن سکتے ہو؟ ایک بال جو ان کا سفید ہو جائے تو گھبرا اٹھتا ہے اور حجام کو بلا کر نوچ ڈالتا ہے۔ اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ یہ کیسی نعمت ہے۔ پھر کھانے پینے میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک کھانا غریب سے غریب آدمی کے سامنے بھی جو آتا ہے تو دیکھو کہ وہ پانی، غلہ، نمک کہاں کہاں سے آیا ہے اور اگر دال ، گوشت، چاول بھی میز پر آ جاوے تو دیکھو کہاں کہاں کی نعمت ہے اور ہر ایک کا جدا جدا مزہ ہے۔ پھر ہوا روشنی وغیرہ۔ کوئی ایک نعمت ہو تو اس کا شمار اور ذکر ہو۔ کسی نے مختصر ترجمہ کیا ہے۔ ابروبار مهر و خورشید همه در کار اند تا تو نانی بکف آری و غفلت نکنی ! سورج چاند کو دیکھتے ہیں ۔ بادل اور ہوا کو دیکھتے ہیں ۔ یہ سب تیری روٹی کے فکر میں ہیں ۔ پھر جس کا اے بادل، ہوا، سورج اور چاند سب خدمت پر مامور ہیں تا کہ تو اپنا رزق حاصل کر سکے اور غفلت نہ کرے۔