حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 249
حقائق الفرقان ۲۴۹ سُورَةِ إِبْرَاهِيم پہلے دن جب اس کی لو دکھائی دے گی تب بھی اس کا نام پیپل ہوگا۔ چار سال کے بعد بھی وہ پیپل ہی کہلائے گا۔ جب بہت بڑھ جائے گا اور سینکڑوں آدمی اس کے سایہ کے نیچے آرام پائیں گے تب بھی وہ پیپل ہی کہلائے گا اور جب وہ پرانا ہو کر اس کے پتے جھڑ جاتے ہیں اور شاخیں گر جاتی ہیں اور ایک ٹنڈ سارہ جاتا ہے تب بھی اس کا نام پیپل ہوتا ہے۔ یہی حال ایمان کا ہے جو بڑھتا اور گھٹتا ہے لیکن اگر کوئی شخص پیپل کے ایک پتے کو ہاتھ میں لے کر کہے کہ یہ درخت پیپل کا ہے تو اس کی غلطی ہوگی ۔ جس کے گھر میں ایمان کا درخت لگ گیا وہاں اس کے پھول، پھل اور پتے بھی نظر آئیں گے۔ یہی حال کفر کا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةِ (ابراهيم: ۲۷) مَا حَاكَ فِي الصَّدْرِ ۔ جو بات دل میں کھٹکتی ہوا سے چھوڑ دینا چاہیے۔جس بدی کا اثر دل پر ہو۔ کھٹکا یہ ہے کہ اس امر سے ڈرے کہ میری بات پر کوئی آگاہ نہ ہو جائے۔ ( بدر جلد ۱۳ نمبر ۱۳ - درس حدیث صفحه ۱۱ مورخه ۲۹ مئی ۱۹۱۳ ء صفحه (۱۳) فرمایا ایمان ہو یا کفر ہو ، شرک ہو، فسق ہو، نفاق ہو ان کی مثال ایک درخت کی سی ہے۔ ایمان کی مثال ایک پاک درخت کی سی ہے اور کفر ، شرک، فسق ، نفاق وغیرہ کی مثال ایک خبیث درخت کی سی ہے جب وہ زمین میں بویا جاوے تو ایک لو نکلتی کوئی اس کو دیکھ کر نہیں کہہ سکتا کہ گھاس جتنا ہو گا یا بڑ کے درخت جتنا ہو گا ۔ پھر وہ بڑھتے بڑھتے ایک زمانہ میں اپنی حقیقت خود بتا دے گا ۔ جب وہ بڑکا درخت ہو گا تو بڑ کی طرح بڑھے گا اور پھلے گا اور آخر بڑ ہی کہلائے گا اب اگر اس کے ایک دو پتہ توڑ ڈالو تو کیا کہہ دو گے کہ بڑ سوکھ گیا۔ جب ہزار دو ہزار پتہ توڑ کر لے آؤ گے تو اسی درجہ تک اس کی حیثیت کم ہو جائے گی پھر جب لاکھ دولاکھ پتے اتار لو گے تو اور بھی گھٹے گا پھر جب اس کی ڈالیاں اور شاخیں کاٹ دو گے تو اور بھی ۔ دیکھو اونٹوں والے پیپل کے درخت کو کاٹ لیتے ہیں۔ ڈالیاں کاٹنے سے ابھی درخت موجود ہوتا ہے اور جڑ کٹ جاوے تو کچھ نہیں رہتا۔ اسی طرح کفر، شرک، فسق اور نفاق ہے۔ الحکم جلد ۱۶ نمبر ۲ ۲۲، ۲۳ مورخه ۲۱، ۲۸ جون ۱۹۱۲ ء صفحه ۲۰)