حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 248 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 248

حقائق الفرقان کرو۔ میرا کہا مانو۔ ۲۴۸ سُورَةِ إِبْرَاهِيم (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۲ مورخه ۱۳ جنوری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۳۶) مَا كَانَ لِي عَلَيْكُم مِّنْ سُلْطَنَ إِلَّا أَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلَا تَلُومُونِي وَ لُومُوا انفسکم ۔ مجھے تم پر کوئی غلبہ اور قدرت نہیں تھی۔ ہاں اتنی بات ہے کہ میں نے تمہیں بلایا۔ سو تم نے میری بات مان لی ۔ اب مجھے ملامت نہ کرو۔ بلکہ اپنے تئیں ملامت کرو۔ ہر ایک بد کار گمراہ کنندہ جو نا پاک باتوں کی طرف لوگوں کو بلاتا اور ہلاکت پر چلاتا ہے۔ ہر وقت اور ہر زمانہ میں ایسے وجود کو قرآن کریم میں شیطان کہا گیا ہے۔ کیا کوئی انکار کر سکتا ہے کہ ایسے شریر موزی وجودوں سے کبھی کوئی زمانہ خالی ہوا ہے۔ جیسے اس وقت میں مُضِل اور مغوی وجود ہیں اور سب قوموں کے نزدیک یہ بات مسلّم ہے۔ اسی طرح آدم کے وقت میں بھی ایک شریر بلکہ موذی وجود آدم کے مقابل تھا۔ تو بہکانے والے وجودوں کا کائنات میں موجود ہونا امر واقع ہے۔ کوئی شخص نادانی سے قرآن شریف کی اصطلاح سے اگر چڑتا ہے تو کیا وہ واقعات عالم کی بھی تکذیب کر سکتا ہے۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام ۔ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۰۵، ۱۰۶) ۲۵- اَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَ فَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ ۔ ترجمہ۔ کیا تمہیں یہ علم نہیں کیسی بیان کی اللہ نے اعلیٰ درجہ کی بات کہ ہر ایک سعادت مند انسان یا ہر ایک سچی بات جیسے ایک عمدہ درخت ہے جس کی جڑ مضبوط ہے اور جس کی شاخیں آسمان میں ہیں ۔ تفسیر فِي السَّمَاءِ ۔ بہت بلندی میں ( حضرت صاحب نے ایک مقام پر فرمایا ہے کہ پاکیزہ بات دل میں گڑ جاتی ہے اور اس پر اعتراض کا ہاتھ نہیں پہنچتا۔ ) ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۲ مورخه ۱۳ جنوری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۳۶) ایمان ایک درخت کی مثال رکھتا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ کے پاک کلام میں آیا ہے۔ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ (ابراهيم: ۲۵) پاک کلمہ ایک پاک درخت کی طرح ہے۔ جب درخت پیدا ہوتا ہے تو پہلے اس کی لونکلتی ہے۔ اسی سے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ کسی قسم کا درخت ہے اور اس کا کیا نام ہے۔ مثلاً پیپل کا درخت