حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 238 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 238

حقائق الفرقان ۲۳۸ سُورَةِ إِبْرَاهِيم فرماں برداری ایسی کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو نہیں دیکھتا تو یہ سمجھے کہ وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔ مثال کے طور پر یہ دیکھ لو جب انسان کسی امیر یا بادشاہ کو اپنا محسن و مربی سمجھے تو پھر اس کے سامنے اور سب کچھ بھول جاتا ہے اور اس کے مقابل میں کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتا۔ یا مثلاً بعض لوگ مکان بناتے ہیں تو اس کی تعمیر کی فکر میں ایسے مبہوت ہو جاتے ہیں کہ گویا مکان میں فنا ہو گئے ہیں۔ مومن کو چاہیے کہ اس طرح پر اللہ تعالیٰ کی محبت میں فنا ہو جاوے۔ یہاں تک کہ اس کے بغیر اسے کوئی خیال نہ رہے۔ اس درجہ احسان کو دوسرے لفظوں میں تصوف کہتے ہیں اور ان کا نام صوفی ہے لِصَفَاءِ أَسْرَارِهِمْ وَنِقَاءِ أَعْمَالِهِمْ ۔ ان کے دلی خیالات صاف ہوتے ہیں۔ ان کے اعمال میں کوئی کدورت نہیں ہوتی ۔ ان کا معاملہ اللہ کے ساتھ صاف ہوتا ہے۔ وہ خدا کے حضور احکام کی تعمیل کے لئے اوّل صف میں کھڑے ہونے والے ہوتے ہیں۔ وہ اس دار الغرور میں دل نہیں لگاتے۔ چنانچہ تصوف کی تعریف میں فرمایا ۔ التَّجَافِي مِنْ دَارِ الْغُرُورِ وَ الْإِنَابَةُ إِلَى دَارِ الْخُلُودِ صوفی موت کی تیاری کرتا ہے قبل اس کے کہ موت نازل ہو۔ ظاہری و باطنی طور پر پاکیزہ رہتا ہے یہاں تک کہ تجارت و بیع اس کو اللہ تعالیٰ سے غافل نہیں کرتی ۔ رِجَالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةً وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ " (النور: ۳۸) اصحاب صفہ انہی لوگوں میں سے ہیں۔ یہ لوگ دن بھر محنت و مشقت کرتے ۔ اس سے اپنا گزارہ کرتے اور اپنے بھائیوں کو بھی کھلاتے اور پھر رات بھر وہ تھے اور قرآن شریف کا مشغلہ۔ صحابہ میں تین گروہ تھے۔ بعض ایسے کہ حضور نبوی میں آئے کچھ کلمات سنے۔ کچھ مسائل پوچھے پھر چلے گئے اور بس۔ نماز پڑھ لی۔ زکوۃ دی۔ روزہ رکھا ۔ بشرط استطاعت حج کیا اور معروف امور کے کرنے اور نواہی سے رکنے میں حسب مقدور کوشاں رہے۔ رض اور بعض ایسے جو اکثر صحبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بیٹھے رہتے ۔ اس مخلوق کے اندر ایمان رچا ہوا تھا۔ سخت سے سخت تکلیف ، مصیبت اور دکھ اور اعلیٰ درجہ کی راحت آرام اور سکھ میں ان ے سہو کتابت ہے ۔ اصل لفظ آثار ھم ہے۔ (الفتوحات الهيه فى نصرة التصوف الحق الخالي من الشوائب البدعية - صفحہ (۱۴) ۲ وہ ایسے لوگ ہیں جن کو غافل نہیں کرتی ان کی سوداگری اور نہ خرید و فروخت اللہ کی یاد سے ۔