حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 237
حقائق الفرقان ۲۳۷ سُورَةِ إِبْرَاهِيم میں بیٹھتے ہیں ۔ تو پھر سب کچھ بھول جاتا ہے یہ ان کی صحبت کی ظلمت کا اثر کا اثر ہے ) مواعیظ نبوی آہستہ آہستہ اثر کرتے رہے پھر اللہ کے احکام کی تعمیل کا شوق پیدا ہوتا ہے اور چونکہ احکام الہی کے مظہر اول ملائکہ ہوتے ہیں اس لئے ان پر ایمان لاتا ہے۔ جو اس کے دل میں پاک تحریکیں کرتے ہیں تو یہ ان کی تحریکات کی فرماں برداری کرتا ہے پھر اس کے بعد چونکہ ملائکہ کا تعلق شدید نبی سے ہوتا ہے۔ اس لئے اس کی باتوں پر ایمان لاتا ہے اور ان کی تعمیل کرتا ہے۔ وہ نبی کو پہلے بھی دیکھتا تھا مگر وہ دیکھنا دراصل نہ دیکھنا تھا۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لا يُبْصِرُونَ (الاعراف: ۱۹۹) اس کے بعد اس کی معرفت بڑھتی ہے اور وہ نبی کو اس کی نبوت کی حیثیت سے پہچانتا ہے تو اس کی کتاب کو پڑھتا ہے۔ پھر جزا وسزا کے مسئلہ پر ایمان لاتا ہے۔ اور اس طرح اس کا ایمان آہستہ آہستہ بڑھتا ہے۔ چنانچہ جبرائیل کے سوال ما الایمان کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ آنْ تُؤْمِنْ بِاللهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَ تُؤْمِنَ بِالقَدْرِ خَيْرِهِ وَشَرِهِ غرض جب مومن کفر و شرک کی ظلمات سے قوم کے رسوم قوم کے تعلقات بزرگوں کی یادداشتوں کی ظلمات سے صحبت نبوی کی برکات کے ذریعے نکلتا ہے اور اس کے دل سے حُب لغیر اللہ اٹھتی جاتی ہے تو پھر وہ اللہ جل شانہ کے سارے احکام کو شرح صدر سے مانتا اور اس کے لئے تمام ماسوی اللہ کے تعلقات کو توڑ دیتا ہے۔ اور محض اللہ ہی کا ہو جاتا ہے تو یہ تیسرا درجہ ہے جسے احسان کہتے ہیں۔ اور یہ مومن کی اس حالت کا نام ہے جب اسے ہر حال میں اپنا مولی گویا نظر آنے لگتا ہے اور وہ مولی کی نظر عنایت کے نیچے آجاتا ہے اور وہ غالباً اس کی رضامندی کے خلاف کوئی حرکت و سکون نہیں کرتا۔ چنانچہ جبرائیل کے سوال انخبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں ۔ ان تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِن لَّمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ ۔ تو اللہ تعالیٰ کی لے وہ تیری طرف آنکھ پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہے ہیں ( یعنی مورتیں اور بت و مشرک ) حالانکہ وہ کچھ بھی دیکھتے نہیں۔ ایمان کیا ہے۔ ۲ یہ کہ تو اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر اور یوم پر اور آخرت پر ایمان لائے اور اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لائے۔ ۴۔ مجھے احسان کے بارہ میں آگاہ کیجئے۔