حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 239
حقائق الفرقان کا قدم یکساں خدا کی طرف بڑھتا تھا ۔ ۲۳۹ سُورَة إِبْرَاهِيم انہی لوگوں میں سے خواص ایسے تیار ہو گئے کہ خدا ان کا متوتی ہو گیا۔ مجھے اس موقع پر ایک شعر یاد آ گیا۔ قَوْمٌ هُمُومُهُمْ بِاللَّهِ قَدْ عَلِقَتْ ! وہ ایسے لوگ ہیں کہ سارا خیال ان کو اللہ کا رہ جاتا ہے اور اس کے بغیر کسی کے ساتھ حقیقی تعلق نہیں رکھتے۔ نبی کی اتباع وہ کرتے ہیں مگر اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ بادشاہ کی اطاعت کرتے ہیں تو اسی لئے کہ اللہ نے حکم د اللہ نے حکم دیا۔ بیوی بچوں سے نیک سلوک بھی اسی لئے کرتے ہیں۔ وہ دنیا کے کاروبار کرتے ہیں۔ چھوڑ نہیں بیٹھتے ۔ مگر یہ سب باتیں، یہ سب کام ان کے اللہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ فرمایا ۔ فَمَطلَبُ الْقَوْمِ مَوْلَاهُمْ وَسَيِّدُهُمْ ۔ يَاحُسُنَ مَطْلَبِهِمُ لِلْوَاحِدِ الصَّمَدِ ( بدر جلد ۹ نمبر ۱۴ مورخه ۲۷ جنوری ۱۹۱۰ ء صفحہ ۹۰۸) الَّذِينَ يَسْتَحِبُّونَ الْحَيُوةَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ وَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا أُولَئِكَ فِي ضَلَلٍ بَعِيدٍ - ترجمہ ۔ وہ جو دنیا کی ہی زندگی کو پسند کرتے ہیں آخرت کے مقابلہ میں اور وہ اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس راہ الہی کو چاہتے ہیں ٹیڑھے رہ کر ۔ یہی لوگ ہیں دور دراز کی گمراہی میں ۔ تفسير - يَبْغُونَهَا عِوَجًا - ایک عِوَج آیا ۔ ایک عوج ۔ دین وزمین میں عوج بولتے ہیں ۔ اور عوج نیزہ، دیوار، دانت پر بولتے ہیں ۔ بعض لوگ ٹیڑھارہ کر سیدھی راہ کو چاہتے ہیں ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۲ مورخه ۱۳ جنوری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۳۵) لے وہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے سارے خیال اور افکار اللہ سے وابستہ ہو جاتے ہیں۔ ۲۔ ان لوگوں کا سارا مطلوب ان کا مولی اور ان کا آقا ہوتا ہے۔ واہ رے ان کا حسن مطلوب ( جو ) واحد و یگانہ بے نیاز ( ہستی ) ہے۔