حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 236 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 236

حقائق الفرقان ۲۳۶ سُورَةِ إِبْرَاهِيم آئے اور پہلا سوال یہی کیا کہ يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلامِ اسلام نام ہے فرماں برداری کا ۔ سارے جہان کو تو موقع نہیں کہ اللہ کی باتیں سُنے ۔ اس لئے پہلے نبی سنتا ہے پھر اوروں کو سناتا ہے سو پہلا مرتبہ یہی ہے کہ نبی کی صحبت میں رہے۔ اور اس سے فرماں برداری کی راہیں سنے اور سیکھے چنانچہ اس بناء پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سمجھایا کہ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله " (آل عمران : ۳۲) یعنی سر دست تم میرے تابع ہو جاؤ۔ اس کی تعمیل میں اسلام لانے والوں نے جیسا انہیں نبی کریم نے سمجھایا ، کیا ۔ کلمہ سکھایا ، کلمہ پڑھ لیا، نماز سکھائی، تو نماز پڑھ لی ، روزہ، حج ، زکوۃ جس طرح فرمایا۔ اسی طرح ادا کیا۔ یہ اسلام ہے۔ چنانچہ جبرائیل کے سوال ، کے جواب میں فرماتے ہیں۔ الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَ تُقِيمَ الصَّلوةَ وَ تُؤْتِي الزَّكوةَ وَ تَصُوْمَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلاً - - مگر چونکہ منافق لوگ بھی ایسی باتوں میں شریک ہو سکتے ہیں اس لئے اس سے اوپر ایک اور مرتبہ ہے۔ وہ یوں کہ جب انسان یہ اعمال کرتا ہے اور ان کے فوائد و ثمرات مرتب ہوتے ہیں تو پھر عقائد اس کے دل میں گڑ جاتے ہیں ۔ یہ ایمان کا مرتبہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لوگ آتے تو آپ کی باتیں سنتے اور آہستہ آہستہ وہی باتیں دل کے اندر گڑ جاتیں اور اس طرح پر ان کو اسلام سے ایمان کا رتبہ ملتا اور وہ کئی ظلمات سے نکل کر نور میں آ جاتے پہلی ظلمت تو کفار کی مجلس تھی جس کو چھوڑ کر وہ حضور نبوی میں آئے ۔ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔ میں نے کئی ڈاکووں سے پوچھا ہے کہ تمہیں کبھی رحم نہیں آتا۔ تم کیسے حیرت انگیز بے رحمی کے رحمی کام کرتے ہو۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں رحم آتا ہے مگر تنہائی میں ۔ لیکن جب ہم اپنے ہمجولیوں لے اے محمد ! مجھے اسلام کے بارہ میں بتائیے ۔ ۲ اگر تم اللہ کے محبوب بنا چاہتے ہو ( جیسا کہ میں اللہ کا محبوب بنا ہوں ) تو تم میری چال چلو پوری پوری تو تم بھی اللہ کے محبوب بن جاؤ گے۔ سے اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں اور تو نماز قائم کرے کے اور اللہ کے ہیں اور قائم اور زکوۃ دے اور رمضان کے روزے رکھے اور بیت اللہ کا حج کرے۔ اگر تو اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھے۔