حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 235
حقائق الفرقان ۲۳۵ سُورَة إِبْرَاهِيم سُورَةُ إِبْرَاهِيمَ مَكَّيَّةٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - سورہ ابراہیم کو اس اللہ کے نام سے پڑھنا شروع کرتے ہیں جو تمام محامد کا موصوف اور رحم بے سبب کرنے والا اور اسباب کا نیک بدلہ دینے والا ہے۔ قف ، الر كِتَبُ أَنْزَلْتُهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمُ إِلَى صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ اللَّهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَوَيْلٌ لِلْكَفِرِينَ مِنْ عَذَابٍ شَدِيدِ - ترجمہ ۔ ہم اللہ ہیں، بار بار تیری رسالت پر زور دینے والے یہ ایک کتاب ہے ہم نے اس کو اتارا تیری طرف تاکہ تو لوگوں کو اندھیروں سے نور کی طرف نکالے۔ ان کے رب کے حکم واجازت سے ایسی راہ کی طرف جوز بر دست قابل حمد راہ ہے یعنی عزیز وحمید ۔ وہ اللہ ہے جس کا آسمان وزمین میں سب کچھ ہے اور افسوس ہے کافروں پر سخت عذاب سے۔ تفسیر۔ یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ظلمات سے نور کی طرف نکالنے والا فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک وقت انسان پر ایسا گزرتا ہے کہ اس کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وعظ موجب بنتا ہے ظلمات سے نکال کر نور کی طرف لے جانے کا۔ مگر ایک اور جگہ پر فرمایا ہے۔ اللهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَتِ إِلَى الثَّوْر (البقرة: ۲۵۸) گویا وہی نسبت جو پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف فرمائی ۔ پھر اللہ نے وہی کام اپنی طرف منسوب فرمایا۔ یہ بات قابل غور ہے۔ حضرت جبرائیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لوگوں کو دین سکھانے کے لئے لے اللہ انہیں کا دوست دار و حامی ہے جنہوں نے اُسے مانا اور وہ انہیں اندھیریوں سے نکال کر اجالے میں لاتا ہے۔