حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 234 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 234

حقائق الفرقان ۲۳۴ سورة الرعد اور کہتے ہیں منکر لوگ کہ تو رسول نہیں ۔ تو کہہ دے۔ میری نبوت پر خدائی ثبوت کافی ہے۔ اور وہ ثبوت جوالها می کتاب کے علماء کے پاس ہے۔ ( فصل الخطاب لمقدمہ اہل الکتاب ۔ حصہ دوم صفحہ ۱۸۶) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اثبات نبوت پر قرآن ہدایت کرتا ہے اور سکھلاتا ہے کہ منکروں کو یہ جواب دو۔ وَ يَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلًا قُلْ كَفَى بِاللهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَ مَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الكتب - کیا معنی کہ محمد کی رسالت اور نبوت کے ثبوت پر قانون فطرت جو خدا کا فعل ہے گواہ ہے۔ کیونکہ مذہب خدا کا قول اور قانون قدرت باری تعالیٰ کا فعل ہے اور لازم ہے کہ باری تعالیٰ کے فعل اور قول دونوں باہم متوافق ہوں ۔ ۔ اور کتاب سابق کا عالم بھی کافی گواہ ہے۔ سابق کتب کے علماء دو طرح گواہ ہیں ۔ اول اس طرح کہ ان سے کتب سابقہ کو سیکھ کر ہم خود محمدی بشارات کو کتب سابقہ سے نکالیں ۔ دوم اس طرح پر کہ جس طرح وہ اپنے انبیاء اور رسل کی نبوت اور رسالت کو ثابت کریں اسی طرز پر ہم بھی نبوت اور رسالت محمد عربی کو ثابت کریں۔ جس قدر اور انبیاء کی نبوت کے ثبوت دنیا میں لوگوں کے پاس ہیں۔ اس کی نظیر کے کل ثبوت اور قانونِ قدرت سے موافقت کا بھاری ثبوت محمد عربی کی نبوت اور رسالت کے واسطے موجود ہے۔ ایک لطیف امر یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اسماء کا ترجمہ مضامین کو سخت وقت میں ڈالتا ہے اور اہل کتاب کی عام عادت ہے کہ اسماء کا ترجمہ کر دیتے ہیں۔ ایسا ہی تفسیر کو متن سے ملاد دینا بڑا عیب ہے کیونکہ تفسیر مفسر کا خیال ہوتا ہے جس میں صحت اور غلطی دونوں کا احتمال قوی ہے۔ بشارات میں یہ نقص نہایت مضر ہوا۔ محمدی بشارت جیسے سلیمان کی غزل الغزلات میں ہے۔ اگر اس میں لفظ محمدیم کا ترجمہ نہ کیا جاتا تو کیسی صاف تھی ۔ اور نمونہ۔ ۸ باب ۳- اشعیا مہر شالال حشنبز نام بند اور عربی ترجمہ ۱۸۲۵ء میں ہے۔ ادع اسمه اغنم بسرعة وانهب عاجلاً ( فصل الخطاب المقد مہ اہل الکتاب ۔ حصہ دوم صفحہ ۱۸۶،۱۸۵) ے اس کا نام پکار ۔ یعنی جلدی سے غنیمت حاصل کر اور جلدی سے ( مال ) چھین ۔