حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 9 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 9

حقائق الفرقان ۹ سُورَةُ الْأَنْفَال ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مومنور انے مومنوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ برائی کو اپنے سامنے نہ ٹھہرنے دیں ورنہ ان دیں ورنہ ان سب کے اوپر عذاب آئے گا۔ اور عبداللہ نے کہا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے مال ، تمہاری اولا دفتنہ ہے اور لا تُصِيبَن نھی ہے بعد نھی کے۔ (1) - وَ فِي الْخَازِنِ لَمْ تَقْتَصِرْ عَلَى الظَّالِمِ خَاصَّةً بَلْ تَتَعَدَّى إِلَيْكُمْ جَمِيعًا وَ تَصِلُ إلى الصالح والطالح ( جلد ۲ صفحه ۲۱۱) اور خازن میں ہے کہ یہ عذاب بالخصوص ظالم پر ہی مقصور نہ رہے گا بلکہ تم سب پر چھا جائے گا اور نیک و بد گنہگار نا کردہ گناہ دونوں پر اس کا اثر پہنچے گا۔ ( ر ) - ابْنُ كَثِيرٍ لَا يَخْصُّ بِهَا أَهْلُ الْمَعَاصِي وَلَا مَنْ بَاشَرَ الذَّنْبَ بَلْ يَعُتُهَا وَبَيَّنَ قِصَّةً الزُّبَيْرِ وَهُكَذَا فِي فَتْحِ الْبَيَانِ وَ ابْنِ كَثِيرٍ وَزَادَ كَالْقَحْطِ وَالْغَلَا وَتَسَلُّطِ الظَّلَمَةِ وَكَذَا قَالَ الْحَسَنُ نَزَلَتْ فِي عَلِي وَ عُثْمَانَ وَطَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ وَكَذَا فِي دُرِّ الْمَنْثُورِ وَجَمَعَ الرِّوَايَاتِ أَمَّا أَهْلُ الدِّرَايَةِ فَصَدَّقُوا مَا فِي الرِّوَايَةِ وَزَادُوا بِقِرَائَةِ ابْنِ مَسْعُودٍ لَتُصِيبَنَّ لَا مِنْ مِنْ أَيْنَ لَنَا قُرْآنٌ ابْنِ مَسْعُودٍ وَاتِي وَ بَعْضُهُمْ اِجْتَرَاحَتَّى قَالَ زَائِدَةً وَأَمَّا قَوْلُهُمْ بِتَا كِيْدِ النُّوْنِ فَيَرُدُّ عَلَيْهِمْ قَوْلُهُ تَعَالَى ادْخُلُوا مَسَاكِنَكُمْ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَانُ وَجُنُودُهُ - ابن کثیر فرماتے ہیں گنہگا رہی اس سے خاص نہیں اور نہ وہ جو گناہ سے ملوّث ہو۔ بلکہ یہ عام ہے پھر قصہ ز بیر لکھا ہے فتح البیان میں بھی ایسا ہی ہے۔ اور اس پر زیادہ کیا ہے کہ فتنہ مثلاً قحط، گرانی اشیاء، ظالموں کا تسلط ہو جانا۔ اور ایسا ہی حسن نے کہا کہ یہ دربارہ علی و عثمان و طلحہ والز بیر نازل ہوئی ۔ اور در منثور میں بھی ایسا ہی ہے اس نے بہت سی روایتیں جمع کی ہیں ۔ اہل الدرایۃ نے جو کچھ روایت میں آیا اس کی تصدیق کی۔ ہاں قرآت ابن مسعود لکھی ہے کہ یہ لتُصِيبَن ہے لیکن ابن مسعود و ابی کا قرآن کہاں ہے؟ بعضوں نے جرات کر کے کہہ دیا ہے کہ لا زیادہ ہے اور یہ جو انہوں نے کہا ہے کہ لا نون کا مؤکد ہے تو اس کی تردید میں یہ قول کافی ہے۔ اُدْخُلُوا مَسْكِنَكُمْ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَانُ وَ جنودہ پھر اس کے یہ معنی ہوں گے کہ اگر تم گھروں میں داخل ہو گئے تو ضرور تمہیں سلیمان اور