حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 168 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 168

حقائق الفرقان ۱۶۸ سُورَةٌ هُودٍ ماننے کے واسطے کبھی تیار نہیں ہو سکتا کہ ایک دہر یہ بھی کبھی اعلیٰ درجہ کے اخلاق فاضلہ والا ہو سکتا ہے۔ کوئی چیز اس کو گناہوں کے ارتکاب سے نہیں روک سکتی ۔ نیکی کا کوئی سچا مفہوم اس کی سمجھ میں آ نہیں سکتا۔ پھر وہ نیکی کیسے کرے اور گناہوں سے کیونکر بچے۔ اس کی ساری عمر نا امیدیوں اور مایوسیوں کا شکار رہتی ہے۔ وہ اسباب اور علت و معلول کے سلسلہ کے پیچ در پیچ تعلقات میں ہی منہمک رہ کر آخر حسرت اور یاس سے اس دنیا کو چھوڑ جاتا ہے۔ میں نے دہریہ اور ایمان والے دونوں کو مرتے ہوئے دیکھا ہے۔ اور دونوں کی موت میں زمین و آسمان کا فرق پایا ہے میں سچ کہتا ہوں اور اپنے ذاتی تجربہ سے کہتا ہوں اور پھر جو چاہے آزما کر دیکھ لے کہ سچی راحت اور حقیقی خوشی صرف صرف ایمان باللہ سے ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام اور صلحاء کی لائف میں جب سے دنیا پیدا ہوئی یا پیدا ہوئی ہے کوئی واقعہ خود کشی کا نہیں پایا جاتا۔ مومن کی امید اپنے اللہ پر بہت وسیع ہوتی ہے۔ وہ کبھی اس سے مایوس نہیں ہوتا۔ ان کی زندگی کے واقعات کو پڑھو تو معلوم ہوگا کہ ایک ایک وقت ان پر ایسا آیا ہے کہ زمین ان پر تنگ ہو گئی ہے۔ لیکن اس شدت ابتلا میں بھی وہ ویسے ہی خوش و خورم ہیں جیسے اس ابتلا کے دور ہونے پر ۔ وہ کیا بات ہے جو ان کو اس موت کی سی حالت میں بھی خوش و خورم اور زندہ رکھتی ہے۔ فقط اللہ پر ایمان ۔ م غرض محسنین کے زمرہ میں داخل ہونا بہت ہی مشکل اور پھر مشکل کشا ہے ۔ پہلا درجہ جو محسن کا اعلیٰ مقام ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے ۔ بعد میں حاصل ہوتا ہے۔ اس کا ابتدائی درجہ یہی ہے کہ وہ یہ ایمان لائے کہ میرے ہر قول و ہر فعل کو مولیٰ کریم دیکھتا اور سنتا ہے۔ جب یہ مقام اسے حاصل ہو گا تو ہر ایک بدی کے وقت اس کا نو ر قلب اس ایمان کی بدولت اس سے روکے گا اور لغزش سے بچالے گا۔ اور رفتہ رفتہ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آخر وہ اس مقام پر پہنچ جائے گا کہ خدا تعالیٰ کو دیکھ لے گا اور یہ وہ مقام ہے جو صوفیوں کی اصطلاح میں لقاء کا مقام کہلاتا ہے ۔ پس جب انسان محسن ہو کر اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو پھر تھوڑا ہو یا بہت ۔ اللہ تعالیٰ اس کے بہتر بدلے دیتا ہے ۔ یہ صرف اعتقادی اور علمی بات ہی نہیں ۔ کہانی اور داستان