حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 169 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 169

حقائق الفرقان ہی نہیں بلکہ واقعات نفس الامر ت مس الامری ہیں ۔ ۱۶۹ سُورَةٌ هُودٍ میں دنیا کی تاریخ میں جس سے مراد میں انبیاءعلیھم السلام کی پاک تاریخ لیتا ہوں ۔ بہت سے واقعات اس کی تصدیق میں پیش کر سکتا ہوں اور علمی طریق پر بھی خدا کے فضل سے اس کی سچائی ثابت کرنے کو تیار ہوں ۔ مگر ان سب باتوں کو چھوڑ کر میں ایک عظیم الشان واقعہ صحابہؓ کی لائف کا دکھانا چاہتا ہوں ۔ میں ایک عرصہ تک اس سوال پر غور کرتا رہا کہ کیا وجہ تھی جو انصار کو خلافت نہ ملی ۔ بلکہ خلافت کے اول وارث مہاجر ہوئے ۔ اور مہاجرین میں سے بھی ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ۔ حالانکہ انصار میں سب نے بڑی ہمت کی اور ان کی اس وقت کی امداد ہی نے ان کو انصار کا پاک خطاب دیا لیکن اس کا کیا ستر ہے کہ بادشاہی اور حکومت کا ان کو حصہ نہ ملا۔ اور پہلا خلیفہ قریشی ہوا۔ پھر دوسرا تیسرا چوتھا بھی ۔ یہاں تک کہ عباسیوں تک قریشیوں ہی کا سلسلہ چلا جاتا ہے۔ بنو ثقیفہ میں کوشش کی گئی کہ ایک خلیفہ انصار میں سے ہو اور ایک مہاجرین میں سے ۔ مگر یہ تجویز پاس نہیں ہوئی ۔ اور کسی نے نہ مانا۔ آخر مجھ پر اس کا سر یہ کھلا کہ اللہ تعالیٰ کی یہ درسی نے نہ مانا۔ آخر صفت إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ اپنا کام کر رہی تھی ۔ انصار نے کیا چھوڑا تھا ۔ جو ان کو ملتا ؟ مہاجرین نے ملک چھوڑا ، وطن چھوڑا ، گھر بار چھوڑا، ا۔ ملتا ؟ مال واسباب ۔ غرض جو کچھ تھا وہ سب چھوڑا ۔ اور سب سے بڑھ کر ابوبکر صدیق نے ۔ اس لئے جنہوں نے جو کچھ چھوڑا تھا۔ اس سے کہیں زیادہ بڑھ کر پایا۔ زیادہ سے زیادہ ان کی زمین چند بیگھہ ہوگی جو انہوں نے خدا کے لئے چھوڑی۔ مگر اس کے بدلہ میں یہاں خدا نے کتنے بیگھہ دی ۔ اس کا حساب ہی کچھ نہیں ۔ پس یہ سچی بات ہے کہ جس قدر قربانی خدا کے لئے کرتا ہے اسی قدر فیض انسان اللہ تعالیٰ کے حضور سے پاتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کتنی بڑی تھی۔ پھر اس کا پھل دیکھو۔ کس قدر ملا۔ اپنی عمر کے آخری ایام میں ایک خواب کی بناء پر جس کی تاویل ہو سکتی تھی۔ حضرت ابراہیم نے