حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 142
حقائق الفرقان ۱۴۲ سُورَةٌ هُودٍ نے اپنی قوم کو وعدہ دیا کہ وہاں دودھ اور شہد کی ندیاں بہتی ہیں ۔ ایک بہشت قرآن اور اس کے حج قاطعہ و براہین ساطعہ ہیں جس کے ذریعے تمام مذاہب پر فتح پا کر مظفر ومنصور ہو کر شاد کام رہتا ہے۔ ایک دفعہ میں سفر کو گیا۔ ایک مولوی سے ملاقات ہوئی۔ مجھ سے پوچھا مرزا صاحب کیا لکھ رہے ہیں میں نے کہا علامات المقر بین لکھتے ہیں۔ اس میں ایک بات لکھی ہے کہ اِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِی نَعِيمٍ - وَ إِنَّ الْفُجَّارَ لَفِي جَحِيمِ (الانفطار : ۱۴ ، ۱۵) مومن اسی دنیا میں نعمتیں پاتا ہے اور فاجر دوزخ میں ہو جاتا ہے۔ جل جل کر کباب ہوتا رہتا ہے۔ مولوی بولا یہ بات تو ٹھیک نہیں ۔ دیکھئے ہم نان شبینہ کو ترستے ہیں اور یہ کافر گڑ گڑ بگھیاں گزارتے ۔ ہمارے سینے پرم پر مونگ دلتے ہیں۔ میں تو دیکھ کر کباب ہو جاتا ہوں ۔ پاس ایک بذلہ سنج بیٹھے تھے۔ وہ بولے مولوی صاحب کا رنگ بھی تو اسی جلنے کی وجہ سے سیاہ ہو گیا ہے۔ مولوی صاحب بولے سچ کہتا ہے۔ گویا اس طرح پر اس نے اپنی جہنمی زندگی کا اقرار کیا۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۸ مورخه ۱۶ دسمبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۲۵ ، ۱۲۶) ۳۵- وَلَا يَنْفَعُكُمْ نُصْحِى إِنْ أَرَدْتُ أَنْ أَنْصَحَ لَكُمْ إِنْ كَانَ اللَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُغْوِيَكُمُ هُوَ رَبُّكُمْ وَ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ - ترجمہ ۔ اور میری نصیحت تمہیں فائدہ نہ دے گی اگر چہ میں تم کو نصیحت کرنا چا ہوں جب اللہ تم کو گمراہ کرتا ہے وہ تمہارا رب ہے اور تم اُس کی طرف پلٹو گے۔ تفسیر آن يُغوِيَكُم - اللہ تعالیٰ ہر انسان کے اعمال کے تقاضے کے مطابق سلوک کرتا ہے۔ جب کسی کے اعمال کا تقاضا ہوتا ہے کہ وہ نحوی مقرر ہو تو وہ ایسا ہو جاتا ہے۔ پولوس نے تقدیر کے مسئلہ کو نہیں سمجھا اس لئے اس نے آخر بگڑ کر کہا کہ کاریگری کا ریگر کو کیا کہہ سکتی ہے۔ حالانکہ یہ مثال ٹھیک نہیں ۔ کیونکہ برتن وغیرہ میں تو عقل اور اختیار فعل کسی حد تک بھی نہیں اور انسان میں یہ لے بے شک نیک لوگ سکھوں اور آرام میں ہیں ۔ اور تحقیق بدکار جہنم میں ہیں ۔