حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 128 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 128

حقائق الفرقان ۱۲۸ سُورَة يُونُسَ چنانچہ دیکھو۔ بیت اللہ کی نسبت جو اہلِ اسلام کا قبلہ ہے۔ قرآن میں حَرَمًا أَمِنًا وارد ہوا ہے۔ اس لئے کہ وہاں قتل نفس حرام ہے۔ اس طور پر بھی قبلہ کہنا صحیح ہے کہ فرشتے نے بنی اسرائیل کے گھروں کو امن دیا اور فرعون کے پلوٹھے مار ڈالے۔ قبلة کے معنی متقابلہ کے بھی ہیں ۔ یعنی آمنے سامنے ۔ بنی اسرائیل کو حکم تھا کہ اپنے اپنے گھر ایک دوسرے کے سامنے بنادیں اور مصلحت اس میں یہ تھی کہ رات کو نکل جانے کیلئے اچھا موقع ملے۔ دیکھو گنتی ۔ ( فصل الخطاب المقدمه اہل الکتاب۔ حصہ اول صفحه ۱۵۱) ۸۹- وَ قَالَ مُوسَى رَبَّنَا إِنَّكَ أَتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاةَ زِينَةً وَ أَمْوَالًا فِي الحيوة الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَنْ سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ - ترجمہ ۔۔ اور موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب ! تو نے ہی تو فرعون اور اس کے سرداروں کو دے رکھی ہے زینت اور مال یہاں کی زندگی میں ، اے ہمارے رب ! ( اس کا ) نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ تیرے راستہ سے ہٹا دیں گے۔ اے ہمارے رب ! تباہ کر دے اُن کے مال اور سخت کر دے اُن کے دل کہ وہ تجھ پر ایمان ہی نہ لائیں جب تک نہ دیکھ لیں ٹیس دینے والا عذاب۔ تفسیر - فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ - انبیاء بہت رقیق القلب ہوتے ہیں۔ مگر جب حجت پوری ہو چکتی ہے تو پھر وہ بڑے سخت ہو جاتے ہیں ۔ ایک وقت ان کے مومن بننے کی کوشش فرمائی جاتی ہے۔ دوسرے وقت میں کہا کہ ایمان لانے کی توفیق ان سے چھین لے۔ (ضمیمه اخبار بد ر قادیان جلد ۹ نمبرے مورخہ ۱۹ دسمبر ۱۹۰۹ء صفحہ ۱۲۳) رَبَّنَا اطْمِسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الأَلِيم - اے رب ان کے مالوں پر جھاڑو پھیر دے اور ان کے دل سخت کر دے۔ پس یہ ایمان نہ لائیں جب تک درد دینے والا عذاب نہ دیکھ لیں ۔ تشحید الاذہان جلد ۶ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۱ ء صفحہ ۳۵۷)