حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 127
حقائق الفرقان ۱۲۷ سُورَة يُونُسَ نہ سکتے تھے؟ یہ تو اس پر اعتراض کیا اور معنے یہ کئے کہ اب تم اپنے گھروں کو قربان گاہ بنا لو اور خون کے نشان لگنے سے ان کے گھر امن کے گھر بن گئے ۔ اس لئے بھی ان کو قبلہ کہا گیا۔ چوتھے معنی یہ ہیں کہ نمازیں بھی اپنے گھروں میں پڑھ لیا کرو۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر۷ مورخہ ۱۹ دسمبر ۱۹۰۹ء صفحہ (۱۲۳) قبلۂ یہود وہ جگہ تھی جہاں وہ قربانی کرتے تھے اور فصیح کی رسم ادا کرتے اور عبادت کرتے تھے۔ دیکھو میزان الحق صفحہ ۲۲ ۔ پھر یروشلم یہودیوں کا قربان گاہ اور عبادت گاہ تھا اور خدائے تعالیٰ وہاں اپنے تئیں ایسا ظاہر کرتا تھا کہ گویا اس جگہ میں رہتا تھا ۔ یا تھا۔ انجیل لوک ۲ باب ۴۱ سے ۴۲ تک۔ اُس (مسیح) کے ماں باپ ہر برس عید فسح میں یروشلم کو جاتے تھے اور جب وہ بارہ برس کا ہوا۔ وے عید فسح کے دستور پر یروشلم کو گئے۔ خروج ۳۴ باب ۲۳۔ اور استثناء ۶ ا باب ۱ و ۱۶ میں بھی ایسی ہی باتیں لکھی ہیں۔ اب اس سے واضح ہو گیا کہ یہ نشانات اور یہ حقیقت قبلہ یہود کی تھی۔ اب خروج ۱۲ باب ۳ سے ۷ تک اور ۲۲ سے ۲۴ تک دیکھ ڈالو۔ اس میں لکھا ہے کہ اسرائیلیوں کے سارے گروہ سے یہ بات کہو کہ اس مہینے کے دسویں دن ہر ایک مرد اپنے اپنے گھر باپ دادوں کے گھرانے کے مطابق ایک بڑہ گھر پیچھے اپنے لئے لے اور شام کو ذبح کرو اور اس کا چھا پا دروازے پر لگاؤ۔ ۲۳ میں ہے۔ خداوند در پر سے گزر کرے گا اور ہلاک کرنے والے کو نہ چھوڑے گا کہ تمہارے گھروں میں آکے تمہیں مارے اور خداوند کا یہ بھی حکم تھا کہ گھر سے باہر نہ نکلیں اور یہ رسم گھر کے اندر ہی ادا ہو۔ یہی مطلب قرآن کا ہے کہ گھروں کو قبلہ بناؤ یعنی یہ رسم گھروں ہی میں ادا کرو۔۔۔۔۔۔ اہل اسلام کے نزدیک قبلہ وہ جگہ ہے جہاں قتل کا امن ضروری ہو اور جس پر خاص خداوندی نظر ہو۔ لے سے ہوگا ۔ واللہ اعلم ۔ مرتب ۔