حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 83
حقائق الفرقان ۸۳ سُورَةُ آل عِمْرَان پھر اس بارے میں کوئی نصیحت کرے تو اُلٹا اسی پر اعتراض جماتے ہیں۔ جب مسلمانوں کو یہ وعظ کیا گیا کہ انفاق کرو اور یہود کو بھی ترغیب ہوئی تو وہ بجائے اس کے کہ اس نصیحت کو مانتے، کہنے لگے کہ تم تو حرام خور ہو۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ سب چیزیں جو ہم مسلمانوں کے کھانے میں آتی ہیں بنی اسرائیل کے لئے حلال تھیں ۔ ہاں وہ جو اسرائیل نے اپنے مرض ریگن کی وجہ سے ترک کر دیا تھا یہ مَا حَرَّمَ کے معنے ہیں ) - مِنْ قَبْلِ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَيةُ اور كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلَّا لِبَنِي اسراءیل تو رات کے نزول سے پہلے کی بات ہے۔ یہ بات خوب یا د رکھو کہ كُلُّ الطَّعَامِ کے یہ معنی نہیں کہ جو کچھ تو رات میں حلال و حرام ہے وہی قرآن مجید میں موجود ہے بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ تمام چیزیں جو ہم کھاتے ہیں یہ وہ ہیں جو بنی اسرائیل کے لئے بھی تو رات کے نزول سے پہلے کی حلال تھیں ۔ پس اگر ان چیزوں کا کھانا حرام خوری ہے تو یہ اعتراض ابراہیم ، اسحق و یعقوب علیہم السلام پر بھی ہو سکتا ہے۔ رسول کریم فرماتے ہیں کہ میں تمہاری کتابوں کا متبع نہیں ہوں ۔ میں ابراہیم کے دین پر قائم ہوں ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۶، ۳۷ مؤرخہ یکم و ۸ جولائی ۱۹۰۹ ء صفحہ ۶۵ ) اب یہ اعتراض رہا کہ جس کو قرآن کے معانی بدوں کسی کتاب کے آتے ہیں اسے کسی دوسری کتاب کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک ایسی تھی کہ ان کو قرآن کے فہم کے واسطے تو کسی کتاب کی ضرورت نہ تھی مگر تا ہم قرآن کو کلام الہی اور جو کچھ قرآن کریم پیش کرتا ہے اس کی تصدیق کے واسطے پھر بھی اور کتاب کی تو ضرورت تھی اور خود قرآن بتلاتا ہے کہ اور کتاب کی ضرورت ہے۔ فَأْتُوا بِالتَّوْرَيةِ فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صَدِقِينَ - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی صداقت ثابت کرنے کے واسطے قرآن میں فرماتا ہے کہ ایک اور کتاب میں دیکھو۔ پھر لکھا ہے ا (یعنی ریح۔ ناقل )