حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 84
حقائق الفرقان ۸۴ سُورَةُ آل عِمْرَان مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّورية (الاعر هُم فِي التَّورية (الاعراف : ١٥٨) فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صَدِقِينَ (آل عمران : ۹۴) مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَةِ وَالْإِنْجِيلِ گو یا دو کتابوں کی ضرورت پڑی۔ اس تقریر سے یہ بات ثابت ہوئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی پیشگوئیوں وغیرہ اور اپنے دعاوی اور نیز قرآن کی تصدیق کے واسطے دوسری کتابوں کی ضرورت پڑتی رہی اور ادھر ہم کو بھی پڑی کیونکہ ہماری زبان عربی نہیں ہے۔ اس لئے خوب یاد رکھو کہ قرآن تو اپنی ذات میں ایک کامل کتاب ہے مگر اس کے کمال کو یا د کو کہ قرآن تو اپنی ذات میں ایک کامل کتاب ۔ جاننے کے لئے ہم اور کتابوں کے محتاج ہیں۔ کبھی لغت کے کبھی دوسرے علوم کی کتب کے۔ اگر کہو کہ اصول دین کو اس سے کیا تعلق ہے تو ہم کہتے ہیں قرآن شریف کی تصدیق کرنی بھی تو اصول دین ہے ۔ کامل ذات خود کسی کی محتاج نہیں ہوا کرتی مگر دوسرے اس کو کامل جاننے کے واسطے محتاج ہوتے ہیں۔ دیکھو خدا اپنی ذات میں کامل ہے اور اس کو دلائل کی ضرورت نہیں مگر چونکہ ہم دلائل کے محتاج ہیں اس لئے مصنوعات وغیرہ کے دلائل ہم کو دینے پڑے۔ الحکم جلد ۷ نمبر ۲۵ مورخہ ۱۰ جولائی ۱۹۰۳ ء صفحه ۴) ۹۶ - قُلْ صَدَقَ اللهُ فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ - ترجمہ ۔ تم کہہ دو سچ فرمایا اللہ تعالیٰ نے تو تم مخلص ابراہیم کے طریق کی پیروی کرو اور وہ تو مشرکوں میں سے نہ تھا۔ تفسیر - فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا تم بھی اسی دین کو قائم رکھو۔ افراط و تفریط سے بچنے والے ہو کر ۔ حنیف کے یہی معنے ہیں ۔ ایک طرف جھکا ہوا غلط معنے ہیں ۔ احنف ٹیڑھے پاؤں والوں کو بطور ہوکر دعا کہتے ہیں ۔ حنیف وہ آدمی ہے جس میں کوئی کمی نقص اور زیادتی نہ ہو۔ جو مشرک ہوتا ہے وہ محبت میں افراط سے کام لیتا ہے۔ کبھی غیر اللہ کو سجدہ کرتا ہے، کبھی رکوع کبھی اپنے محبوب کے لئے قربانیاں، کبھی غیر اللہ سے دعائیں مانگتا ہے، کبھی اس سے حاجتیں طلب کرتا ہے۔ یہ محبت میں غلو ہے جو افراط لے لکھا ہوا اپنے پاس توریت میں ۔ ۲۔ اس کو پڑھو جب تم سچے ہو۔