حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 82
حقائق الفرقان ۸۲ سُورَةُ آل عِمْرَان أولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (ال عمران : ۹۲) بے ایمان آدمی جب عذابوں اور دُکھوں کو دیکھے گا تو اس کا دل یہ چاہے گا کہ زمین کی گول کو بھر کر سونا دے دے مگر قبول نہ ہوگا۔ پس تم حقیقی نیکی کو نہیں پا سکو گے جب تک کہ تم مال سے خرچ نہ کرو۔ مِمَّا تُحِبُّونَ کے معنے میرے نزدیک مال ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ إِنَّهُ لِحُبّ الْخَيْرِ لَشَدِيدُ ( الغديت : ۹) انسان کو مال بہت پیارا ہے پس حقیقی نیکی پانے کے لئے ضروری ہے کہ اپنی پسندیدہ چیز مال میں سے خرچ کرتے رہو۔ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ ۔ جو کچھ بھی خرچ کرو گے اللہ کو اس کا علم ہے ۔ یعنی اسے مال کے لینے اور بڑھانے کا خوب علم ہے۔ پارہ سیقول رکوع ۱۶ میں آیا ہے مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضْعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً وَاللهُ يَقْبِضُ وَ يَبْصِطُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ کون ہے جو اپنے مالوں کو عمدگی سے الگ کرے اور اللہ اسے بڑھائے ۔ اس شخص کے لئے بہت بڑھاتا ہے۔ اللہ مال کو لیتا ہے اور اس کو بڑھاتا ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۷٬۳۶ مورخہ یکم و ۸ جولائی ۱۹۰۹ ء صفحہ ۶۵) ۹۴ - كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلَّا لِبَنِي إِسْرَاءِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَاءِ يُلَ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَيةُ قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَيةِ فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صدِقِينَ ۔ ترجمہ ۔ جو چیزیں کھانے کی ہیں وہ سب کی سب حلال تھیں بنی اسرائیل کو سوائے اس چیز کے جو حضرت اسرائیل نے اپنی جان پر (بطور نذر یا ضرورت کے ) حرام کر لی تھی تو رات نازل ہونے سے پہلے ۔ تم کہہ دولاؤ تو تو رات اور اس کو پڑھو جب تم سچے ہو۔ تفسير - كُلُّ الطَعَامِ كَانَ حِلًّا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ ۔ دنیا میں جس قدر بے ایمانیاں ، دھوم ہوتی ہیں اور لوگ شراب، زنا، چوری ، جھوٹ سے بھی دریغ نہیں کرتے یہ صرف مال کے لئے ہے اور