حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 75
حقائق الفرقان ۷۵ سُورَةُ آل عِمْرَان خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ ( ص : ۲۷) : ۲۷) ہم نے تمہیں بادشاہ بنایا ہے۔ یہاں یہ مسئلہ سمجھایا ہے کہ البہی انتخاب کے خلاف ریشہ دوانیاں کرنا ہلاکت کا موجب ہیں ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۵ مؤرخہ ۲۴ جون ۱۹۰۹ ء صفحه ۶۳ ) ان يوثى اَحَدٌ - ہدایت یہ ہے کہ دیا جائے جیسے موسی دیا گیا تھا بلکہ اس سے زیادہ یہ کہ غالب آجائے۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۴۷) ان آیات (۷۳ تا ۷۵۔ ناقل ) میں بہت سی باتیں بتا کر باری تعالیٰ فرماتا ہے کہ نبوت اور قرآن خداوند کریم کا فضل ہے اور فضل کے دینے میں اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے جسے چاہے اپنے خاص فضل سے مخصوص کرے۔ خدا کا وہ ارادہ جس سے وہ اشیاء پیدا کرتا ہے اس کی تکمیل ایک لا بدی امر ہے کیونکہ اس قادر مطلق کی قدرت اور طاقت کے واسطے کوئی مانع نہیں ۔ اسی ارادہ ازلی کی تکمیل کی ضرورت نے نزول قرآن اور نبوت محمد عربی کو ضرور کر دیا۔ مثلاً نادانی سے کوئی کہے کہ پطرس اور یوحنا وغیرہ تو مسیح کے حواری ہو چکے تھے پولوس کو حواری بنانے کی کیا ضرورت تھی ، تو اس کا ٹھیک جواب یہی ہوگا اور جتنے حواری ہونے کے لئے ازل میں منظور ہو چکے وہ ضرور حواری ہوئے ۔ ۷۶ ( فصل الخطاب المقد مہ اہل الکتاب حصہ دوم - صفحه ۲۶۳) - وَ مِنْ أَهْلِ الْكِتٰبِ مَنْ إِنْ تَأْمَنْهُ بِقِنْطَارِ يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ وَمِنْهُم مَّنْ إِنْ تَأْمَنُهُ بِدِينَارٍ لَا يُؤَدِّةَ إِلَيْكَ إِلَّا مَا دُمْتَ عَلَيْهِ قَائِمًا ۖ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الْأُمِّينَ سَبِيلٌ وَ يَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ - ترجمہ اور بعض اہل کتاب میں سے ایسے لوگ ہیں کہ اگر تو اُن کے پاس امانت رکھے مال کا بڑا ڈھیر تو وہ تجھے ادا کر دیں اور بعض اُن میں سے ایسے ہیں کہ اگر تو اُن کے پاس ایک ہی اشرفی امانت رکھ دے تو وہ تجھے نہ ادا کریں مگر جب تک کہ تو ان کے سر پر کھڑا رہے یہ حالت اُن کی اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے کہا امیوں کا مال کھا جانے میں ہم پر کوئی الزام نہیں اور ( یہ بات ) جھوٹ بولتے ہیں اللہ پر اور وہ جانتے بوجھتے ؟ ہیں۔ اے ہم نے تجھ کو بنا یا نائب ملک میں ۔