حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 74
حقائق الفرقان ۷۴ سُورَةُ آل عِمْرَان تفسیر۔ تو کہہ دے وہ خاص ہدایت جسے الہی کہتے ہیں وہ تو یہی ہے کہ دیا جاوے کوئی مثل اس کی کہ دیئے گئے تم (استثناء ۱۸ باب (۱۸) بلکہ تم پر محبت میں غالب آوے تمہارے پالنے والے ربّ کے سامنے تو کہہ دے یہ نبوت اور رسالت اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور اسی کے ہاتھ ہے۔ جسے چاہے دے اور اللہ وسیع وعلم والا خاص عزت و رحمت جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ تعالی بڑے فضل والا ہے۔ ( تصدیق براہین احمد یہ کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن صفحہ ۲۴۶۔ حاشیہ ) غرض اللہ تعالیٰ کا وہ فضل، ارادہ علم اور قدرت جس سے وہ مخلوق کو پیدا کرتا اور عزت کے لائقوں کو عزت دیتا ہے۔ اس کی تکمیل اور اس کا پورا ہونا ایک لا بدی امر ہے۔ کیونکہ اس کا کوئی مانع نہیں ۔ جب سید نا نبی عرب کو اس نے اپنے خاص فضل اور رحمت سے نبی رسول ، رسولوں کا سردار رسولوں کا خاتم بنایا اور اسے قرآن جیسی پاک کتاب دینی چاہی تو اس قادر مطلق کے فضل وارادہ کا کون مانع ہے یہ دنیا اور دنیا کے لوگ اس کا ملک اور ملک ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے ملک کی رعایا پر مختلف جسمانی حکام بنایا کرتا ہے تو کہ ان کا انتظام دنیا میں کسی قدر امن کو قائم رکھے۔ روحانی انتظام جسمانی انتظام سے زیادہ ضروری اور توجہ کے قابل ہے۔ اگر دنیا کے انتظام کے واسطے اللہ تعالیٰ نے مختلف ناظم بھیج دیئے تو دنیوی انتظام سے زیادہ دینی روحانی انتظام کے واسطے کئی ناظموں کا آنا ضروری نہیں؟ ( تصدیق براہین احمدیہ ۔ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۴۶) إِنَّ الْهُدَى هُدَى اللهِ - کامل ہدایت تو وہی ہے جو اللہ کی ہدایت ہے اور وہ یہ کہ تمہاری مثل ایک اور قوم کو بھی انہی انعامات سے ممتاز فرمایا گیا ہے۔سلطنت ، نبوت ۔ أَوْ يُحَاجُوكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ ۔ بلکہ وہ تمہارے رب کی محبت میں تم پر غالب ہیں ۔ آؤ کے معنے بلکہ کے ہیں۔ إِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللهِ - اللہ تعالیٰ نے رسول کریم کی نسبت بھی فرمایا وَ اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدة : ۶۸) اور داؤد کی عبادت گاہ میں جب دشمن چڑھ آئے تو وہاں بھی فرمایا انا جَعَلْنَكَ لے اللہ تیری حفاظت کرے گا لوگوں سے۔ (ناشر)