حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 73
حقائق الفرقان ۷۳ سُورَةُ آل عِمْرَان تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں دو قسم کی طبیعتیں ہوتی ہیں ایک وہ جنہیں اگر عمدگی سے وعظ کیا جاوے تو مان لیتے ہیں اور اگر تشد د کیا جائے تو انکار کرتے ہیں اور ایک وہ جو دلائل کو مانتے ہی ما نہیں ۔ ہاں دو چار جوت لگ جائیں تو کہتے ہیں جی ٹھیک ہے۔ ایک زمانہ میں مجھے خیال پیدا ہوا تو میں نے چند لڑکوں سے سوال کیا اگر کوئی لڑکا بدچلنی کرے تو اس کے روکنے کی کیا تدبیر ہے؟ اس پر بعضوں نے لکھا کہ اسے نصیحت کی جاوے مگر تنہائی میں۔ اور بعضوں نے یہ کہا کہ نصیحت کی جاوے مگر عام لڑکوں میں تا اسے ندامت ہو۔ بعضوں نے کہا پکڑ کر خوب بید لگائے جاویں تا پھر کبھی ایسی جرات نہ کرے۔ در حقیقت سب نے سچ لکھا کیونکہ کئی قسم کے لوگ ہیں۔ بعض وہ جو نصیحت مان لیتے ہیں مگر دلائل کے ساتھ ۔ بعض ایسے بھی ہیں جنہیں دلائل دیں تو وہ اور بھی بپھر جاتے ہیں اور ردّ و قدح شروع کر دیتے ہیں ۔ بعض صرف کہنے سے مان جاتے ہیں۔ بعض مدلل کہنے کو مانتے ہیں ۔ بعض صرف خموشی یا توجہ چھوڑ دینے سے مان جاتے ہیں۔ بعض مار کھائے بغیر نہیں سمجھتے ہیں۔ پھر بعض ایسی طبائع کے انسان ہوتے ہیں جو دن رات منصوبے سوچتے رہتے ہیں ایسے بدبخت ہمیشہ ناکام رہتے ہیں۔ مگر وہ اسی فکر میں غلطاں پیچاں رہتے ہیں کہ فلاں بڑے کارخانے کو نقصان پہنچا ئیں ۔ بس ایسے بدبختوں کا ذکر اس آیت میں ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۵ مورخه ۲۴ جون ۱۹۰۹ ء صفحه ۶۳ ) ۷۵،۷۴۔ وَلَا تُؤْمِنُوا إِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِينَكُمُ قُلْ إِنَّ الْهُدَى هُدَى اللَّهِ أن يُؤْتَى أَحَدٌ مِثْلَ مَا أُوتِيتُمْ أَوْ يُحَاجُوكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ قُلْ إِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ - يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ وَ اللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ - ترجمہ اور مت ایمان لاؤ مگر ان کی خاطر جو تمہارے مذہب کے پیرو بنیں، تو کہہ دے کہ ہدایت اللہ کی ہدایت یوں ہے کہ کسی کو وہ ملے جو تمہیں ملا اور تمہارے رب کے حضور وہ تمہارا مقابلہ کرے۔ تو کہہ دے کہ فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے ، دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور اللہ بڑا وسعت دینے والا بڑا جاننے والا ہے۔ وہ خاص کر لیتا ہے اپنی مہربانی سے جس کو چاہتا ہے اور اللہ بڑا ہی فضل والا ہے۔