حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 66 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 66

حقائق الفرقان ۶۶ سُورَةُ آل عِمْرَان اس آیت مباہلہ کی مناسبت ساتھ زمانہ مسیح موعود کے عجیب و غریب اسلوب سے واقع ہوئی ہے۔ نبی کریم کے وقت میں بھی یہ مباہلہ حضرت عیسیٰ ہی کے بارہ میں واقع ہوا تھا اور زمانہ مسیح موعود میں بھی حضرت عیسی ہی کے بارہ میں واقع ہوا۔ رسول کریم کے وقت میں بعد اتمام حجت اور اتمام مناظرات کے یہ مباہلہ واقع ہوا تھا۔ یہاں پر بھی بعد مناظرات و اتمام حجت کے واقع ہوا۔ نصاری نجران کے خوف زدہ ہو کر مباہلہ پر آمادہ نہ ہوئے یہاں پر بھی اوائل میں شیخ الکل مع اپنی جماعت کے مباہلہ نہ کر سکے بلکہ مولوی محمد حسین صاحب بھی مباہلہ پر مستعد نہ ہو سکے۔ اور اگر چہ آیت ھذا مباہلہ کی نصرانیان نجران کے حق میں وارد ہوئی تھی مگر دیگر اقوام قریش مثل ابو جہل وغیرہ سے بھی آپ کا مباہلہ واقع ہوا۔ دیکھو کتب سیر کو ۔ اسی طرح پر مسیح موعود کا مباہلہ بھی علاوہ طرف داران عیسی کے دیگر اقوام سے بھی حسب درخواست مخالفین کے واقع ہوا ہے جیسا کہ لیکھرام وغیرہ ۔ اور جنہوں نے خود درخواست کر کر مباہلہ کیا وہ بقدر اپنے اپنے تشدد اور سختی کے لعنت الہی میں مبتلا ہوئے خواہ ذلت ورسوائی ہو یا ہلاکت ہو۔ جس طرح پر مفسرین نے اس مباہلہ سے آنحضرت صلعم کی نبوت کا اثبات کیا ہے اسی طرح پر ان مباہلوں سے مسیح موعود کے دعاوی کا اثبات ہوا کیونکہ نتیجہ ان مباہلوں کا حسب دعاوی مسیح موعود کے واقع ہوا والحَمدُ للهِ ۔ اور اگر کوئی مخالف ان مباہلوں کو بعد وقوع نتائج کے بھی نہ مانے تو وہ بتاوے کہ پھر صادق اور کاذب میں کیا ما بہ الامتیاز رہے گا۔ اور پھر آنحضرت کے ثبوتوں میں سے ایک بڑا ثبوت جس کو قرآن مجید میں بڑی عظمت شان سے بیان فرمایا گیا ہے ضائع ہو جاوے گا بلکہ چند آیات کریمہ قرآن مجید کے متعلق مباہلہ کے نعوذ بالله لغو ہو جاویں گی وَتَعَالٰی شَانُ كَلَامِهِ تَعَالَى عَنْ ذَلِكَ عُلُوًّا کبیرا۔ اور ناظرین کو خوب معلوم رہے کہ ان مباہلوں کا نتیجہ یا تو آنحضرت صلعم کے وقت میں واقع ہوا تھا یا بعثت مسیح موعود کے زمانہ میں ہوا ہے ۔ اس تیرہ سو برس میں کسی مجدد کے وقت میں ایسے مباہلات واقع نہیں ہوئے اور نہ اس کے نتائج ۔ پس ان آیات کا نشانات واسطے نبوت خاتم النبین کے ہونا بھی ثابت ہو ان الحمد لله (الحکم جلد ۱۰ نمبر ۱۶ مورخه ۱۰ رمئی ۱۹۰۶ صفحه ۱۰،۹) اے اللہ تعالیٰ کے کلام کی شان اس سے بہت بلند ہے۔