حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 65 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 65

حقائق الفرقان ۶۵ سُورَةُ آل عِمْرَان ہو۔ موت ہو یا قتل وغیرہ۔ پس ایک خاص عذاب کذائی کی نفی اور لعنت الہی کے ثبوت میں کوئی منافات نہیں ہے کیونکہ ایمان بالغیب کی حکمت کے مانع نہیں اور اجبار بھی اس میں نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ سرداران مکہ میں سے ایک شخص مسمی نضر بن حارث تھا اور نیز ابو جہل جس نے یہی دعا کی تھی کہ اللهم إِنْ كَانَ هُذَا هُوَ الْحَقَّ الآية (الانفال: ۳۳) - تو دیکھو جنگ بدر میں ابو جہل تو عذاب قتل میں مبتلا ہوا بسبب اپنے تشدد کے اور نضر بن حارث باوجود یکہ قیدیوں میں قید ہو کر آیا تھا، دوسرے قیدی تو فدیہ لے کر چھوڑ دئے گئے تھے مگر نضر بن حارث بایں وجہ قتل کیا گیا کہ قرآن مجید کی شان میں بڑی بڑی کہ کی گستاخیاں کیا کرتا تھا اور سخت معاند تھا۔ تو یہ دونوں منجملہ ستر مقتولوں کے عذاب قتل میں اس لئے مبتلا ہوئے کہ یہ بھی اہل اسلام کے قتل کے درپے تھے ورنہ مباہلہ میں کاذب کا قتل ہو جانا یا مرجانا شرط نہیں ۔ صرف وقوع لعنت النبی کا ہی ہو، خواہ کسی طرح ہو۔ اور عذاب قتل جو بموجب پیشین گوئی ملہم ربانی کے واقع ہو جس میں دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کا قتل کرنا بطور ذب کے چاہتا ہے ایسا عذاب نہیں ہے جس میں ایمان بالغیب کی حکمت باقی نہ رہتی ہو یا اجبار لا زم آوے۔الحاصل مباہلہ میں کاذب پر لعنت کا وقوع ضروری ہے خواہ کسی رنگ میں ہو۔ اگر مباہلہ میں ایسا عذاب جس میں مثل بارش کے آسمان سے پتھر برسنے لگیں یا اس سے بھی زیادہ مولم ہو جس میں کوئی متنفس نہ بیچ سکے نازل نہیں ہوتا کہ سنت اللہ کے خلاف ہے۔ اسی لئے ان دونوں آیتوں کے آگے ہی دوسرے عذابوں کے ثبوت کے لئے اللہ ن کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَا لَهُمْ اَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَن الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ (الانفال: ۳۵) یعنی اور کیا ہے واسطے ان کے کہ نہ عذاب کرے گا ان کو اللہ اور وہ روکتے ہیں مسجد حرام سے۔ اور پھر اسی آیت میں اللہ تعالیٰ نے جو یہ قید لگائی کہ وَانْتَ فِيهِم وہ بھی ایسے ہی عذاب کذائی کے عدم نزول کی طرف اشارہ کر رہی ہے یعنی جبکہ ایسا عذاب نازل ہووے گا تو پھر اس کا اثر تم کو بھی پہنچے گا۔ لہذا ایسے عذاب کا نازل کرنا ہماری سنت قدیمہ کے خلاف ہے۔ لے اے ہمارے اللہ ! کہ اگر یہی دین حق ہے۔ (ناشر) ۲ اور اُن کا کیا حق ہے کہ اُن کو اللہ عذاب نہ دے حالانکہ وہ روکتے ہیں تعظیم والی مسجد ۔ ہیں عظیم والی مسجد سے ۔ (ناشر)