حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 64
حقائق الفرقان ۶۴ سُورَةُ آل عِمْرَان سوال ۔ اگر کہا جاوے کہ بعض کفار نے تو خود چاہا تھا کہ اگر آنحضرت صلعم اپنے دعاوی میں حق پر ہیں تو ہم مکذبین پر یا اللہ ! عذاب نازل فرما تب بھی کوئی عذاب نازل نہیں ہوا تو پھر مباہلہ پر کیونکر عذاب نازل ہوتا ۔ كَمَا قَالَ اللهُ تَعَالَى حِكَايَنَا عَنْهُمْ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هُذَا هُوَ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرُ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ وَ مَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّ بَهُمْ وَ انْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ (الانفال: ۳۳، ۳۴) ۔ پس ان دونوں آیتوں میں توفیق کیا ہوگی؟ الجواب۔ آیات مباہلہ اور ان آیات مندرجہ میں کچھ بھی منافات نہیں ہے کیونکہ ان آیات میں ایک خاص عذاب کے نزول کے لئے دعا کی گئی تھی یعنی آسمان سے مثل بارش کے پتھروں کا برسنا جس سے عام ہلاکت بلکہ استیصال عام متصور ہے۔ دوسرا عذاب اس عذاب سے بھی زیادہ تر مولم مانگا تھا۔ سو قدیم سے اللہ تعالیٰ کی یہ سنت نہیں ہے کہ قبل قیامت ایسے عذاب دنیا میں فوری نازل فرمادیوے کیونکہ ایسے عذابوں کے انزال میں خواہ کفار کی درخواست سے ہوویں یا کسی فرضاً ما مور من اللہ کی دعا دعا سے ہوویں ایمان بالغیب کی حکمت باقی نہیں رہے ا رہ سکتی اور مع ہذا ایسے عذاب کے انزال سے اجبار اور اکراہ اور الجا لازم آتا ہے جو دین اسلام میں ہرگز موجود نہیں ہے لا إكراه في الدين (البقرة: ۲۵۷) ۔ ہاں کسی کاذب پر لعنت کا پڑنا جس سے ذلت یا رسوائی ہو اور ایمان بالغیب کی حکمت تلف نہ ہو دے اور اکراہ والجا بھی لازم نہ آوے ہوا کرتا ہے۔ چنانچہ مخالفین انبیاء پر ایسے عذاب ذلت واقع ہوتے رہے ہیں اور ہوویں گے۔ حتی کہ کا ذب کی موت بھی مباہلہ میں شرط نہیں ہے کیونکہ منشا اہل مباہلہ کا صرف کا ذب پر وقوع لعنت کا ہے خواہ کسی طرح سے ہو ۔ یہ اس علیم و خبیر کے اختیار میں ہے کہ بقدر تکذیب و تشد د مخالفین کے وہ لعنت کسی عذاب مہلک سے ہی واقع اے اے ہمارے اللہ ! کہ اگر یہی دین حق ہے تیری طرف سے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسایا کوئی بڑا ٹیس دینے والا عذاب ہم پر لا ۔ حالانکہ اللہ ان کو عذاب دینے والا نہیں جب تک کہ تو ان میں ہے اور جب تک وہ استغفار کرتے رہیں گے جب بھی ان کو عذاب نہ دے گا ۔ ہے دین میں کچھ زبردستی نہیں۔ (ناشر)