حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 63
حقائق الفرقان ۶۳ سُورَةُ آل عِمْرَان تو لوٹ چلو اور ان سے کچھ تعرض مت کرو اور نہ ان سے لڑو۔ یہ دونوں پادری بڑے ذی رائے تھے۔ اور آنحضرت صلعم اپنے اہل بیت مذکورین سے فرمارہے تھے کہ جب میں دعا کروں تو تم آمین کہنا۔ اس وقت ان کے بشپ لاٹ پادری نے اپنے ہمراہیوں سے یہ بھی کہا کہ میں ان لوگوں کے چہرے ایسے دیکھتا ہوں کہ اگر یہ لوگ پنج تن کسی پہاڑ کا اپنی جگہ سے ٹلا دینا بھی اللہ تعالی سے چاہیں گے تو وہ پہاڑ بھی ٹل جاوے گا ۔ فَلا تَبَاهَلُوا فَتَهْلِكُوا غرضیکہ ان نصارای نجران نے پھر تو نہ مباہلہ کرنا چاہا اور نہ لڑنا چاہا بلکہ بالآخر جزیہ دینا قبول کیا۔ سال بھر میں دو مرتبہ یعنی ماہ صفر میں ایک ہزار حلہ اور ماہ رجب میں ایک ہزار حلہ اور خالص لوہے کی عمدہ تیں زرہ۔ اگر چہ اس قوم نصاری نجران سے مباہلہ واقع نہیں ہوا مگر یہ واقعہ جو اس آیت اور احادیث میں مذکور ہے آپ کی حقیت نبوت کے لئے مفسرین ایک بڑی دلیل مثبت لکھتے ہیں۔ روایات میں یہ بھی واقعہ ہوا ہے کہ حضرت نے فرمایا کہ اہل نجران نصاری سے عذاب بہت قریب ہو گیا تھا۔ اگر وہ مباہلہ کرتے تو ان پر عذاب نازل ہوجاتا ۔ وَلَمَّا حَالَ الْحَوْلُ عَلَى النَّصَارَى كُلِّهِمْ حَتَّى يَهْلِكُوا (بخاری کتاب مناقب انصار) اور یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود جو حضرات عیسائیوں کو مدت دراز سے اسلام کی طرف دعوت کر رہے ہیں لیکن کوئی عیسائی صاحب خواہ بشپ ہو یالاٹ پادری اس میدان لق و دق میں قدم رکھنا نہیں چاہتے کیونکہ جانتے ہیں کہ ہم اہل اسلام کے مقابلہ مباہلہ میں ہرگز ہرگز کامیاب نہ ہوویں گے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے مذہب کی پردہ دری ہو جاوے گی ۔ مگر اس امتناع کے لئے ایک عذر بار د یہ بنالیا ہے کہ ہمارے مذہب میں مباہلہ جائز نہیں ہے۔ ہاں یہ فیصلہ النبی ہے اور وہ صادق و کاذب کو خوب جانتا ہے اور خود آپ بڑا زبردست عزیز و حکیم اور علیم بالمفسدین ہے۔ وہ تو فیصلہ صادق ہی کے حق میں کرے گا نہ کاذب کے حق میں۔ جیسا کہ اس نے ان آیات مباہلہ کے آگے ان صفات کا ذکر اسی لئے فرمایا ہے۔ ا پس تم مباہلہ نہ کرو جس کے نتیجہ میں تم ہلاک ہو جاؤ۔ ۲ تمام کے تمام نصاری پر ایک سال نہ گزرتا کہ وہ ہلاک ہو جاتے۔ (ناشر)