حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 62
حقائق الفرقان ۶۲ سُورَةُ آل عِمْرَان پیشین گوئی ہو گئی جو آنحضرت صلعم کے وقت میں بھی واقع ہوئی اور اس زمانہ آخری میں بھی بڑے زور شور سے واقع ہو رہی ہے۔ اس لئے یہ آیت ہمہ وجوہ آنحضرت صلعم کے نبوت کے اثبات کے لئے ایک بڑا نشان ہے۔ اب بعد اتمام حجت کے جو دلائل علمیہ سے بیان فرمائے گئے اور دلائل علمیہ کا بیان انتہا درجہ کو پہنچ گیا تب بھی مخالفین نے تسلیم نہ کیا تو فرمایا جاتا ہے کہ جو شخص اس کے بعد عیسی کے بارہ میں کٹ حجتی کرتا رہے تو آخری فیصلہ یہ ہے کہ ان سے کہہ دو کہ آجاؤ ۔ ہم اپنے بیٹوں کو بلاویں اور تم اپنے بیٹوں کو بلاؤ اور ہم اپنی عورتوں کو اور تم اپنی عورتوں کو اور ہم اپنے نفسوں کو شریک کریں اور تم اپنے نفسوں کو ۔ پھر ہم سب مل کر تضرع اور زاری کے ساتھ دعا کریں۔ پس جھوٹوں پر خدا کی لعنت ڈالیں ۔ فائدہ۔ یہ قصہ مباہلہ کا نصاری نجران کے ساتھ آنحضرت صلعم کو پیش آیا تھا جن میں ساٹھ سواروں کا وفد مع لاٹ پادری سید اور عاقب کے جو بڑے ذی رائے تھے موجود تھا۔ جبکہ آنحضرت صلعم نے مناظرہ فرما کر بخوبی ان پر اتمام حجت فرمایا تب بھی انہوں نے امر حق اور صداقت ثابت شدہ کو تسلیم نہ کیا ۔ تب بالآخر مجبور ہو کر مباہلہ کی آیت پیش کرنے کے لئے آنحضرت صلعم تیار ہوئے اور اپنے اہل بیت یعنی صاحبزادی حضرت فاطمتہ الزہرا اور ہر دونوں بیٹوں حسنین کو اور حضرت علی داماد کو لے کر مباہلہ کے لئے موجود ہوئے کیونکہ نصاری نجران نے حضرت کا بہت پیچھا کیا تھا۔ آغاز سورۃ ال عمران کا قریب اسی آیتوں کے اسی مناظرہ اور مباہلہ کے بیان میں نازل ہوا ہے۔ یہ مناظرہ آنحضرت صلعم کی طرف سے ایک بڑا عظیم الشان مناظرہ واقع ہوا تھا جس کی نوبت بالآخر مباہلہ تک پہنچی تھی مگر نصاری نجران اس مباہلہ سے ایسے خوف زدہ ہو گئے کہ جوان میں بشپ اور لاٹ پادری مسمی عاقب وسید وغیرہ موجود تھے انہوں نے اپنے ہمراہیوں سے کہا جن میں قریب ساٹھ سواروں کے بھی تھے کہ یا معشر النصاری ! یہ تو وہی سچے نبی معلوم ہوتے ہیں جن کی نبوت کی خبر عہد عتیق اور عہد جدید میں موجود ہے اور جو دلائل انہوں نے پیش کئے ہیں وہ منقوض نہیں ہو سکتے ۔ اندریں صورت اگر ہم مباہلہ کریں گے تو بالضرور ہم ہلاک اور تباہ ہو جاویں گے۔ اگر تم کو اپنے ہی دین کی محبت ہے