حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 61
حقائق الفرقان ٦١ سُورَةُ آل عِمْرَان سوال۔ انبیاء علیہم السلام کو وحی الہی میں کب شک ہوا کرتا ہے خصوصاً حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کو شک کیونکر ہو سکتا ہے جس کی نہی فرمائی گئی؟ الجواب۔ بادشاہ کا جو خطاب سپہ سالا رفوج کو امر یا نبی ہوا کرتا ہے مراد اس خطاب سے غالباً اس سپہ سالار کی فوج اور لشکر ماتحت اس کا ہوتا ہے۔ اسی طرح پر اگرچہ خطاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہے مگر اس خطاب سے مراد آپ کی امت ہے اور ایسے خطاب میں ایک عجیب نکتہ یہ بھی ہوتا ہے که ان امور مذکورہ میں شک کرنا مذموم اور مخذوریہ میں اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ جس شخص سے اس میں شک کرنے کا گمان بھی نہیں ہو سکتا ہے اس کو بھی نہی فرمائی گئی چہ جائیکہ اس شخص کی جس کو شک کرنے کے لئے شیاطین الجن والانس سامان و اسباب شک کرنے کے مہیا کرتے رہتے ہوں ۔ اور آنحضرت کی نسبت امکان شک کا نہ ہونا اس امر سے ظاہر ہے کہ باوجود یکہ اہل کتاب یہود و نصاری اناجیل اور طالمود سے طرح طرح کی روایات اپنے اپنے مذہب کی تائید میں حضرت صلعم کے رو برو پیش کرتے تھے مگر آنحضرت صلعم کو امر حق پر اس قدر یقین کامل تھا کہ آپ مباہلہ کے لئے مستعد ہو گئے ۔ جیسا کہ اس زمانہ آخری میں بھی مسیح موعود کے مخالفین پیچھے پڑے اور تکفیر نامے لکھے اور شور قیامت بر پا کر کر ان کے روبرو احادیث موضوعہ اور روایات کا ذبہ اپنے مذہب کی تائید میں پیش کی گئی ہیں۔ مگر نہ آنحضرت صلعم کو ایک ذرہ بھر شک پیدا ہوا اور نہ سیح موعود کو کسی طرح کا شک و شبہ اپنے دعاوی میں پیدا ہوا اور اسی لئے مسیح موعود نے بھی یہ آیت مباہلہ حسب درخواست مخالفین کے پیش کر دی ہے۔ اور چونکہ آنحضرت صلعم کے وقت میں بھی ایک عالم پر اس الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ کی حقیقت منکشف ہو گئی تھی اور اس زمانہ آخری میں بھی حقیقت ان دعاوی مسیح موعود کی جو مضمون آیات ماسبق کی موید اور مبین ہیں ایک عالم پر واضح ہوتی چلی جاتی ہے لہذا یہ آیت بسبب وقوع اپنے مضمون کے ایک نشان نبوت کا نبوت کا بھی ہوگئی وَالْحَمْدُ لِلهِ ۔ اور چونکہ تفسیر کبیر وغیرہ میں اس آیت کی ترکیب میں یہ بھی لکھا وغیرہ نہیں ہے وَقَالَ آخَرُونَ الْحَقِّ رَفَعَ بِاضْمَارِ فِعْلٍ أَيْ جَاءَكَ الحق اندریں صورت یہ آیت ایک صریح ے دوسرے مفسرین نے کہا ہے کہ الحق ایک فعل مضمر کی وجہ سے مرفوع ہے ۔ یعنی جَاءَكَ الحق ۔ ( گو یا لفظ الحق فاعل ہے جاء فعل سے جو یہاں مقدر ہے ) (ناشر)