حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 489
حقائق الفرقان ۴۸۹ سُورَةُ الْأَعْرَاف وج ۱۷۷۔ وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَهُ بِهَا وَلَكِنَّهُ اخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَيهُ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِنْ تَحْمِلُ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكُهُ يَلْهَثْ ذَلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِأَيْتِنَا فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمُ يَتَفَكَّرُونَ ۔ ترجمہ ۔ اور اگر ہم چاہتے تو اس کو رفع دیتے اُن نشانیوں سے لیکن وہ زمینی چیزوں ہی کی طرف جھکا اور وہ اپنی گری ہوئی خواہشوں کے پیچھے لگ گیا تو اس کی مثال جیسے ایک کتے کی مثال ہے اگر تو اس پر حملہ کرے تو ہانپے اور چھوڑ دے تو بھی زبان لڑکا وے اور ہانپے یہی مثال ہے اس قوم کی جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں تو تو ( یہ نصیحت خیز ) قصہ بیان کرتا کہ وہ بچیں ۔ تفسیر آیات اللہ جن کے باعث کسی کو رفعت شان کا مرتبہ عطا ہوتا ہے۔ ان پر تمہیں اطلاع نہیں وہ الگ رتبہ رکھتی ہیں۔ مگر وہ چیزیں جن سے خود رائی ۔ خود پسندی ۔ خود غرضی تحقیر ۔ بدظنی اور خطر ناک بدظنی پیدا ہوتی ہے۔ وہ انسان کو ہلاک کرنے والی ہیں۔ ایک ایسے انسان کا قصہ قرآن میں ہے جس نے آیات اللہ دیکھے ۔ مگر اس کی نسبت ارشاد ہوتا ہے وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْتُهُ بِهَا وَلَكِنَّهُ اخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ - الحکم جلد ۶ نمبر ۲ مؤرخہ ۷ ارجنوری ۱۹۰۲ صفحه ۱۰) لَرَفَعُتُهُ بِهَا۔ اس کو بہت ترقی دیتے۔ در مسلخ عشق بجز این - نه گشند ! - مسلخ کہتے ہیں اس جگہ کو جہاں جانوروں کی کھال اتاری جائے۔ تَحْمِلْ عَلَيْهِ ۔ دھتکارنے کا پتھر اٹھاؤ۔ أَوْ تَتْرُكُهُ يَلْهَت ۔ یعنی بہر دو حال بے آرام ہے۔ ضمیمه اخبار بد ر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۹ مورخه ۳۰ ستمبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۱۰) اے عشق کی قربان گاہ میں اس کے سوا اور کسی کو نہیں قتل کرتے ۔