حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 487
حقائق الفرقان محدود کر سکتا ہے۔ مولوی روم فرماتے ہیں باز کن طب را بخواں باب العلل جمله ذرات زمین و آسمان خاک قارون را چو فرمان در رسید موج دریا چون بامر حق بتاخت آتش ابراهیم را دندان نزد ہود گرد مومناں خطے کشید ۴۸۷ ه じ به سُورَةُ الْأَعْرَاف بینی لشکر تن را عمل اے لشکر حق اند گاه امتحان ۲ با زر و تختش بقعر خود کشید ۳ اهل موسی را از قبطی و شناخت کے چون گزیده حق بود چونش گزد هم نرم می شد باد کانجا می رسید 1 اب آگے یہ فرمایا جاتا ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے وہی رو براہ ہوتا ہے اور جس کو وہ بھٹکا دیوے وہی لوگ ہیں ٹوٹا پانے والے۔ مطلب صرف یہ ہے کہ رسول کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ہدایت لائے ہیں اس کے مضبوط پکڑنے سے ہی انسان رو براہ ہوتا ہے اور اپنے خیالات اور ہوا و ہوس کے اتباع سے منزل مقصود کو نہیں پہنچ سکتا کیونکہ اس نے اپنی ہوا و ہوس کو معبود قرار دے لیا نہ اللہ تعالیٰ کو۔ كما قال الله تعالى أَفَرَعَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ الهَهُ هَوله الجالية: ه (الجانبية: (۲۴) بلکہ ایسے لوگوں کو بجز خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ کے اور کچھ حاصل نہیں ہو سکتا اور چونکہ ذرائع ہدایت کے یعنی قرآن مجید اے طب کی کتاب کھول اور بیماریوں کے بارہ میں پڑھتا کہ تجھے جسم کے اعضاء کے کاموں کا علم ہو۔ ۲۔ جب آزمائش کا وقت آتا ہے تو زمین و آسمان کا ذرہ ذرہ خدا کا شکر بن جاتا ہے۔ سے جب قارون کی خاک کو حکم ملا تو اس نے ( قارون ) کو اس کے سونے اور تخت سمیت اپنی گہرائیوں میں کھینچ لیا۔ ۴۔ جب سمندر کی لہروں نے خدا کے حکم پر جلد عمل کیا تو اس نے حضرت موسیٰ کے پیروکاروں کو قبطیوں سے الگ پہچان لیا۔ ۵ آگ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نقصان نہیں پہنچایا کیونکہ آپ خدا کے برگزیدہ تھے اس لئے اس (آگ) نے آپ کو نقصان نہیں پہنچایا۔ ہے حضرت ھود علیہ السلام نے مومنوں کے گرد ایک دائرہ بنالیا تھا جب وہ ( عذاب والی ) وہاں پہنچی تو اس کی شدت ختم ہو گئی ۔ کے بھلا تو نے دیکھا اس کو جس نے اپنا معبود بنالیا اپنی خواہش کو۔