حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 486 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 486

حقائق الفرقان ۴۸۶ سُورَةُ الْأَعْرَافِ وو اس میں بہت ضعیف ہے۔ اس لئے نہ تو ہوائے بار کو باہر سے پوری طور پر جذب کر سکتا ہے اور نہ ہوائے گرم کو اندر سے باہر بکمال نکال سکتا ہے۔ اور جو شخص اپنی ہوا و ہوس کا اتباع کرتا ہے اس کا بھی ایسا ہی حال ہو جاتا ہے کہ جو اس کے اندر مواد ہائے فاسدہ اور حادہ فضلات واجب الاخراج ہیں جو باعث پیدا ہونے اخلاق ردیہ کے ہیں نہ ان کو بہ سبب اتباع اپنی ہوا کے باہر نکال سکتا ہے جس سے روح انسانی کو تفریح حاصل ہو اور نہ باہر سے اہل حق کے نصائح کو جومثل ہوا بارد کے ممد حیات روحانی ہیں اخذ کر سکتا ہے۔ دیباچہ گلستان میں کیا عمدہ بات لکھی ہے کہ ” ہر نفسے کہ فرومی رود مد حیات است و چون برمی آید مفرح ذات پس در هر نفسی دو نعمت موجود است و بر هر نعمتی شکرے واجبی اسی لئے ایسا مکذب مامور من اللہ کا بہت جلد رسوا اور تباہ اور ہلاک ہو جاتا ہے ۔ کیونکہ نہ اس کو تفریح روح انسانی کی حاصل ہوتی ہے اور نہ امداد حیات یابی کی میسر ہوتی ہے۔ اسی لئے تاکیداً آگے فرمایا جاتا ہے کہ کیسی بری مثل ہے ان لوگوں کی جنہوں نے ہمارے نشانوں کو جھٹلایا۔ وہ اپنے ہی او پر ظلم کرتے رہے ہیں، نہ ما مور من اللہ پر ۔ وَلَنِعْمَ مَا قِيلَ حمله بر خود میکنی اے ساده مرد ہمچو آں شیری که بر خود حمله کرد دیکھو چراغ دین کو اس نے اپنی تکذیب سے مامور من اللہ کا کیا بگاڑا۔ جو کچھ اس نے تکذیب کر کر ر ظلم کیا وہ اپنی ہی اولاد یعنی فرزندان و دختر اور اپنے نفس پر کیا۔ چراغ دین کے گھر کا بے چراغ ہو جانا بڑی عبرت کا مقام تھا جس پر بعض کو توجہ نہ ہوئی ۔ تفسیر ابوالسعو دوغیرہ میں بلعم باعورا کے حالات میں لکھا ہے کہ جب اس نے حضرت موسیٰ کی تکذیب کی اور ان پر واسطے بددعا کرنے کے بیحد مشغول ہوا تو اس کو ایک قلبی مرض ایسا عارض ہو گیا کہ مثل کتے کے اس کی زبان نکل آئی اور مثل کتے کے ہانپتے ہانپتے ہی مر گیا ۔ یہ مرض بعید نہ سمجھو کیونکہ امراض کا کیا ٹھکانا ہے اور ان کو کون شمار میں ے ہر ایک سانس جب اندر جاتی ہے تو زندگی میں مددگار ہوتی ہے۔ اور جب باہر نکلتی ہے انسان کو تازہ دم کرتی ہے۔ لہذا ہر سانس میں دو نعمتیں ہیں اور ہر نعمت کا شکر واجب ہے۔ ۲۔ اے احمق انسان ! تو اس شیر کی مانند جس نے خود پر حملہ کیا تھا۔ اپنے آپ پر ہی حملہ کر رہا ہے۔