حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 485
حقائق الفرقان لد ٢٧ سُورَةُ الْأَعْرَافِ بلکہ شیطانی دخل ان الہامات میں اکثر ہو جاتا ہے جس کا نام اتباع ہوا ہے اور اس کا ازالہ نہیں کیا جاتا۔ بخلاف مامور من اللہ کے الہام کے کہ ان کے الہاموں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑی حفاظت کی جاتی ہے۔ كَمَا قَالَ اللهُ تَعَالَى فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهِ رصدا (الجن : ۲۸) یعنی اللہ تعالیٰ چلاتا ہے مامور من اللہ کے الہامات کے پیچھے چوکیداروں کا پہرہ تا کہ اس میں شیطانی دخل نہ ہونے پاوے ۔ اور اس مسئلہ الہامات کو ہم نے کتاب آيَاتُ الرَّحْمَنِ لِنَسْخِ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ میں ایسا بیان کر دیا ہے جس سے درمیان الہامات عوام غیر مامورین اور الہامات مامورین من اللہ کے ایک ما بہ الامتیاز حاصل ہو جاوے۔ اور متکلمین کا یہ مسئلہ بڑا ہی حق ہے کہ مطلقاً الہام حجت شرعی نہیں ہے جب تک کہ اس کے ثبوت پر قطعی دلائل موجود نہ ہوویں اور نشانات آسمانی و زمینی اس کے ثبوت میں قائم نہ ہو لیو یں ۔ اور سر اس میں کہ غیر مامورین میں بھی استعداد الہامات اور رویا کی اللہ تعالیٰ نے رکھی ہے، یہ ہے کہ کارخانہ نبوت کی ایک نظیر ان میں موجود ہوتا کہ اس نظیر پر قیاس کر کر کا رخا نہ نبوت کی تصدیق کریں اور ان پر اتمام حجت ہو جاوے اور یہ عذر نہ کرسکیں کہ انا كنا عَنْ هُذَا غُفِلِينَ (الاعراف: ۱۷۳) یعنی فِي أَصْلِ الْفِطْرَةِ فَلَمْ يُوثّرِ فِيْنَا أَقْوَالُ الرُّسُلِ اور پھر ایسا مکذب جو بعد پہنچ جانے آیات اللہ کے تکذیب کرے اس کا ہدایت پر آنا معلوم نہیں ہوتا إِلَّا مَا شَاءَ اللہ کیونکہ ایسے شخص کے لئے اتباع اپنے ہوا و ہوس کا مانند طبعی امور کے ہو جاتا ہے جیسا کہ کتنے کی حالت ہوتی ہے کہ ہر حالت میں زبان نکال کر وہ ہانپتا رہتا ہے یعنی یہ ہانپنا کتے کا ایک طبعی امر اس کا ہے۔ جو اس سے جدا نہیں ہو سکتا۔ سر اس میں یہ ہے کہ سوائے کتے کے اور کسی جانور میں ایسی حالت نہیں پائی جاتی ہے۔ مگر ہاں بوقت وقوع مشقت اور تعب کے البتہ ایسی حالت اور حیوانات میں بھی پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ کتے کا قلب کچھ ایسا واقع ہوا ہے کہ اندر کی ہوائے گرم کو باہر نکالنے کی اہے قوت اس میں بہت ضعیف ہے ۔ علی لھذا القیاس باہر سے ہوائے بارد کے جذب کرنے کی قوت بھی لے تو وہ اس کے آگے اور پیچھے لگا دیتا ہے محافظ ہے جو ( وساوس کا روائیاں ) شیطان ڈالتا ہے ان کو مٹانے کے لئے خدائے رحمان کی آیات و نشانات سے ہم تو اس سے بالکل بے خبر ہی تھے ۔ ۴ فطرت صحیحہ کے اعتبار سے ( یہ نہ کہہ سکیں کہ ) رسولوں کی باتوں نے ہم پر کوئی اثر نہیں ڈالا ۔