حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 478
حقائق الفرقان ۴۷۸ سُورَةُ الْأَعْرَافِ اب اسی فطرت کے اقرار کو اسی ربوبیت النبی کے جبلی معترف فطرت کو الہامی زبان ربانی کلام اس طرز عبارت میں بیان فرماتا ہے اور اس دقیق فطرت کے راز کو اس طرح پر انسان کو سمجھاتا ہے کہ انسان بدو فطرت میں میری ربوبیت کا اقرار کر چکا ہے۔ یعنی الوہیت ایزدی کا اعتراف انسان کا امر جبلی اور فطری ہے۔ اور اس کی ترکیب و ہیئت ہی اس امر پر شاہد عادل کافی ہے۔ قرآن کا یہ عجیب معجز طریق ہے کہ وہ ایسے باریک مسائل کو اس نہج میں ادا کرتا ہے کہ اس سے عالم و جاہل یکساں مستفید ہو سکتے ہیں۔ عیسائی ظاہر بین الفاظ پرست ان اسرار کو کیا سمجھیں۔ وہ تو کتب الہامیہ کے خصوصیات اور ان کے طرق ادائے مطالب سے آشنا ہی نہیں ہوئے ۔ خواہ مخواہ ہر ایک حقیقت پر اعتراض جما دینے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے گو وہ اناجیل ہی میں کیوں نہ ہو۔ ( فصل الخطاب المقدمه اہل الکتاب حصہ اول صفحہ ۱۴۲، ۱۴۳) وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ۔ عَنْ هُذَا غُفِلِينَ یعنی آدمی کو اللہ تعالیٰ نے آدمیوں سے بنایا اور آدمی میں ایسی عقل اور فطرت رکھی جس سے وہ اپنے رب کا قائل اور اپنے خالق کی ربوبیت کا اقرار ضرور کرتا ہے۔ یہ اس لئے کہ محکمہ جزاوسزا میں ایسا نہ کہہ دے کہ مجھے تو خبر نہ تھی ۔ مِن ظُهُورِهِمْ کا ترجمہ ان سے کیا گیا۔ اس لئے کہ لغت کی کتابوں میں د کا ترجمہ ان - لکھا ہے بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ أَيْ وَسَطِهِمْ اور كُنْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا أَتَى بَيْنَنَا ۔ اس آیت کا ذکر اس لئے کیا کہ اس آیت شریف سے کوئی روح کا قبل الجسد موجود ہونا نہ سمجھ لے۔ ( فصل الخطاب المقدمہ اہل الکتاب حصہ اول - صفحہ ۳۱) واضح ہو کہ تکذیب کے دو درجہ ہیں ۔ اول درجہ تکذیب کا تو یہ ہی ہے کہ انسان اپنی فطرت صحیحہ کو کھو بیٹھے جو عطیہ الہی ہے اور اس کو محض بیکار کر دیوے کیونکہ ہر ایک انسان ذو العقل کی بناوٹ ے جب لی تیرے رب نے اولاد آدم سے، ان سے اُن کی اولاد اور گواہ کیا ان کو ان کی جانوں پر ۔ کیا میں تمہارا ناکوان رب نہیں؟ انہوں نے کہا بیشک ہم قائل ہیں ۔ کبھی کہو قیامت کے دن ۔ ہم کو اس کی خبر نہ تھی۔ ۲۔ ان کے در میان ران میں ۔ سے تو ہمارے درمیان رہم میں تھی۔