حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 479
حقائق الفرقان ۴۷۹ سُورَةُ الْأَعْرَافِ اللہ تعالیٰ نے ایسی بنائی ہے کہ بغیر پہنچنے رسولوں کی رسالت کے بحکم كُلُّ مَوْلُوْدٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ (بخاری کتاب الجنائز باب ماقيل فى أولاد المشركين ح: ۱۳۸۴) کے اللہ تعالیٰ کی توحید اور ربوبیت خالصہ کو سمجھ سکتا ہے ۔ ورنہ اس کی کیا وجہ کہ فونوگراف کا بنانے والا یہ تو یقینا جانتا ہے کہ بغیر کا ریگر کے فونوگراف خود بخود نہیں بن سکتا ۔ پھر یہ کیوں کر ہو سکتا ہے کہ انسان حیوان ناطق جس کو اپنے وجود اور تربیت میں ہر لحظہ اور ہر آن میں ایک خالق اور رب کی سخت ضرورت خود بخود موجود ہو گیا ہو اور خود بخود اس نے تمام مراتب تربیت انسانیت کے حاصل کر لئے ہوں دیکھو جس وقت انسان محض نطفہ تھا۔ مع ہذا اس میں یہ تمام قومی ظاہری اور باطنی اور اعضائے جسمی موجود تھے جواب پیدا ہو گئے ہیں۔ پس وہ نطفہ ہی بزبان حال گواہی دے رہا ہے کہ ایک خالق ظاہری ہے، وہ اور رب اس کا بالضرور ایسا موجود ہے جس نے اس نطفہ میں یہ تمام اعضائے جسمی اور قوائے : اور باطنی ہاں اسی میں مرکوز رکھتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالی نے اس سے پہلی آیتوں میں اگست پر نکھ قَالُوا بَلَى (الاعراف: ۱۷۳) میں اس امر کو واضح طور پر بیان فرمادیا ہے۔ پس جبکہ فطرت انسانی ہی اس طرح کی واقع ہوئی ہے جو ابتدائی حالت نطفگی سے ایک خالق اور رب کا وجود ضروری سمجھتے ہیں تو اسی فطرت صحیحہ کی طرف رجوع نہ کرنا اور اس کی شہادت کو دوبارہ تو حید اور ربوبیت خالصہ النبی کے قبول نہ کرنا یہ بھی تکذیب ہے اور اس تکذیب پر بھی کوئی عذر إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غُفِلِينَ (الاعراف: ۱۷۳) کا مسموع نہ ہو وے گا اور نہ تقلید آباء واجداد کی کہ اِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ (الاعراف: ۱۷۴) عذر ہو سکے گا ۔ دوسرے درجہ کی تکذیب جو اس سے قباحت میں بہت بڑھ کر ہے یہ ہے جو ان آیات مذکورہ میں بیان فرمائی گئی ہے کہ اے پیغمبر ان لوگوں پر اس شخص کا حال بھی تلاوت کر کر سنا دو ۔ جس کو ہم نے اپنی آیات اور نشانات بھی دیئے تھے پس وہ ان آیات سے جدا ہو گیا ۔ جیسا کہ مثلاً بکرے سے کھال علیحدہ کر لی جاوے۔ پس شیطان اس کے پیچھے جالگا تو こ。 لے ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ ۲۔ کیا میں تمہارا رب ہوں یا نہیں تو وہ پکار اٹھتے ہیں کہ جی ہاں۔ سے ہم تو اس سے بالکل بے خبر ہی تھے۔ ۴۔ محض ہمارے باپ دادا ہی نے ہم سے پہلے شرک کیا اور ہم تو ان کے پیچھے اولاد ہوئے۔