حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 477
حقائق الفرقان ۴۷۷ سُورَةُ الْأَعْرَافِ میں تو اپنے آپ سے یہ سوال کر کے اس نتیجہ پر پہنچ چکا ہوں کہ میرا رب وہی ہے جو رب العالمین ہے ایک شخص نے کیا ہی عمدہ دلیل دی ہے۔ الْبَعْرَةُ تَدُلُّ عَلَى الْبَعِيرِ ، وَأَثَرُ الْقَدَمِ عَلَى السَّفَرِ أَمَا تَقُولُ أَنَّ الْأَرْضَ وَالسَّمُوتِ تَدُلُّ عَلَى الْعَلِيمِ القَدِيرِ - ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۹ مورخه ۳۰ ستمبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۱۰) وَ أَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ - ہر بنی آدم کو عقل کے وقت معلوم ہو جاتا ہے کہ میرا کوئی رب ہے۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ صفحه ۴۵۵) مِنْ ظُهُورِهِمْ میں ظهور کا لفظ زبان عرب میں زائد آیا کرتا ہے۔ دیکھو قاموس - بين أَظْهُرِهِمْ أَى وَسْطِهِمْ بَین کا لفظ وسط کے معنی دیتا ہے۔ اور اظہر کا لفظ زائد ہے معنی اس فقرے کے ، اُن کے بیچ یا ان میں ۔ حدیث میں بھی یہ محاورہ آیا ہے۔ دیکھو مشکوۃ باب الایمان صفحہ ۷۔ كُنْتَ بَيْنَ أَظْهُرِ نا ۔ آپ تھے ہم میں ۔ محاورہ عرب دیکھو مَا أَفْصَحَكَ وَمَا خَرَجْتَ مِنْ أَظْهُرِنَا۔ تو کیسا فصیح ہے اور تو تو ہم سے کہیں الگ نہیں نکلا۔ اور عرب بولتے ہیں كَانَ يَنْشُدُ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِهِ یعنی وہ دل سے یا از بر شعر پڑھتا تھا ۔ ظہر کا لفظ زائد ہے۔۔۔۔۔۔ اصل مطلب آیت کا یہ ہے۔ کہ عادل ، رحیم ، قدوس خدا نے تمام بنی آدم میں ان کی بدو فطرت میں ایک قوت ایمانیہ اور نور فراست ودیعت رکھا ہے جو ہمیشہ وجو دالبی اور اس کی ربوبیت کا اقرار یاد دلاتا رہتا ہے یا عقلاً ، یوں کہو کہ اگر مثلاً کسی عارض کے باعث غافل بھی ہو جاوے تو بھی چونکہ اصل فطرت میں وہ قوت مجبول کی گئی ہے۔ کسی بیرونی محرک کے سبب سے حرکت میں آ جاتی ہے۔ ہاں اگر کسی بے ایمان کے اندر کسی باعث سے وہ قوت بالکل مر گئی ہو اور وہ کمبخت اتھاہ کنویں میں جا پڑا ہو اور شیطان کا فرزند بن کر آسمانی دفتر سے اس نے اپنا نام کٹوا لیا ہو۔ تو یہ اس کا اپنا قصور ہے عادل خدا کی ذات اس سے منزہ ہے۔ لے مینگنی اونٹ کے وجود پر دلیل ہے اور قدموں کے نشان کسی کے گزرنے کی دلیل ہے تو یہ آسمان وزمین کیوں خدائے علیم وقدیر کی ذات پر دلیل نہیں۔ (مرتب)